کسر صلیب — Page 160
14۔کبھی بھی ممکن ہو سکے گی۔ظاہر ہے کہ جو عقیدہ نہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ کسی کو سمجھایا جا سکتا ہے وہ سچا اور درست نہیں ہو سکتا۔خصوصاً اس صورت میں کہ وہ انسانوں سے متعلق ہو اور اس پر سی انسانوں کی نجات موقوف ہو۔اسی دلیل کو حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔اور لکھا ہے کہ اس عقیدہ کو اپنی رازوں میں سے ایک رانہ قرارہ دینا اور اس طرح اس کی وضاحت کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا اس کے بطلان کی ایک دلیل ہے۔۔عیسائی کہتے ہیں کہ تثلیث ایک مقدس بھید ہے اور یہ مسئلہ بالائے عقل ہے۔انسان اس کو سمجھ نہیں سکتا۔حقیقت ہے یہ مسئلہ بالائے عقل نہیں بلکہ خلاف عقل ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسانی عقل اس کو سمجھ نہیں سکتی۔سوال یہ ہے کہ اگر واقعی مسیحی حضرات کا یہ بیان درست ہے کہ یہ عقیدہ بالائے عقل ہے تو پھر وہ اس عقیدہ کی وضاحت کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں اور کیوں اس کو سمجھانے اور حل کرنے میں اپنے اوقات عزیز کو ضائع کرتے ہیں۔حق یہی ہے کہ یہ مسئلہ خلاف عقل ہے۔اور اسی وجہ سے نہ آج تک اس کو کوئی عقلمند سمجھ سکا۔اور نہ کبھی سمجھ سکے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں :- انجیل خاموش کے چالاک اور عیار حامیوں نے اس خیال سے کہ انجیل کی تعلیم عقلی زور کے مقابل بے جان محض ہے نہایت ہوشیاری سے اپنے عقاید میں اس امر کو داخل کر لیا کہ تثلیث اور کفارہ ایسے رانہ ہیں کہ انسانی عقل ان کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی“ سے حالا نکہ اس عقیدہ کا ایک سربستہ رازہ ہونا ہی اس کے خلاف ایک زبر دست اعتراض کی بنیاد ہے وہ عقیدہ ہی کیا جو انسانوں سے متعلق ہونے کے باوجود کسی انسان کی سمجھ میں کبھی نہ آسکتا ہو ؟۔کیا عیسائیت اپنے متبعین کو آنکھیں بند کر کے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے؟ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ کیا واقعی عیسائی بھی اس عقیدہ کو ایسا راز قرار دیتے ہیں جو سمجھ میں نہ آسکتا ہو۔عیسائی پادریوں کے مندرجہ ذیل حوالے ہی کافی ہوں گے۔پادری عمادالدین ساسب لکھتے ہیں :- " تثلیث جو اسرایہ الہی میں سے ایک ستر ہے اس طرح مذکور ہے کہ خدا ایک ہے ے ملفوظات جلد اول ص : ۶