کسر صلیب — Page 10
1۔ب : - ہو سکتا ہے کہ جب انسان اعتراض کہ بیان کرے تو اس کی طبیعت میں انشراح ہو اور جب جواب دے تو اس وقت قبض کی حالت ہو۔اسی صورت میں خود اس کا ایمان بھی کمزور ہوگا اور سننے والوں کی طبیعت میں بھی شک رہ جائیگا۔ج-: عین ممکن ہے کہ لوگوں کو اس اعتراض کا علم ہی نہ ہو لیکن جب ان کے سامنے اعتراض بیان کیا جائے گا تو ان کے ذہن میں ایک تک اور کمزوری کا خیال پیدا ہو جائے گا۔ان متعدد وجوہ کی بناء پر اس مکتب فکر کا یہ خیال ہے کہ نہ معترضین کے اعتراضا کو سننا اور بیان کرنا چاہیئے اور نہ ان کا جواب دینا چاہیئے۔جناب سید سلیمان ندوی صاحب نہ كتاب " السلام" کے تعارف میں لکھتے ہیں :- بعض متکلمین کا اور خصوصا امام رازی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں ملحدوں اور منکروں کے ہر قسم کے اعتراضات اور شبہات کو نقل کرتے ہیں اور پھر ان کا ایک ایک کر کے یا مجموعی طور پر جواب دیتے ہیں بعض علماء اس طریقہ کو نا پسند کرتے ہیں کہ اسے وہ اعتراضات اور شکوک ان لوگوں میں بھی پھیلتے ہیں جو ان سے واقف نہیں" سے ستید سلیمان ندوی اس ضمن میں لکھتے ہیں :۔ذاتی طور سے میں بھی اس کو نا پسند کرتا ہوں" نے لیکن علامہ شبلی نعمانی کا مسلک ان سے مختلف ہے۔وہ اس بات کے قائل ہیں کہ کسی گند کے اوپر وقتی طور پر مٹی ڈال کر مجھنا کہ گند حقیقتا ختم ہو گیا ہے۔خود اپنے نفس کو دھوکا دینے والی بات ہے۔اور یہ طریق اپنے ایمان اور استدلال کی کمزوری کا غماز بھی ہے۔چنانچہ سید سلیمان ندوی کا بیان ہے :- مصنف الكلام علامہ شبلی نعمانی۔ناقل ) اس باب میں پہلے گروہ کے ساتھ دعا یا ہیں۔ان کا یہ کہنا ہے کہ اعتراضات و شکوک کے پھوڑوں کو بچا جا کر رکھنا جسم میں زہر پھیلاتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ ان میں ایک دفعہ نشتر دے کر مادہ فائدہ کو خارج کر دیا جائے " سے له له : تعارف بعنوان تنبلیم کتاب الکلام از شبلی نعمانی صا : : : : : ایضاً ص : الخاص۔۔