کسر صلیب — Page 153
۱۵۳ چودھویں دلیل تثلیث کے ابطال کے لئے ایک اور دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تثلیث کا عقیدہ جیسا کہ ہم گذشتہ صفحات میں دیکھ چکے ہیں کسی وحی یا الہام پر مبنی نہیں ہے۔اور عقل بھی یہی بتاتی ہے کہ یہ عقیدہ خدائی یا الہامی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عقیدہ شان الوہیت اور انسانی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔اس عقیدہ کی ثقاہت اور صداقت اور بھی مشتبہ ہو جاتی ہے جب ہم تثلیث کے عقیدہ کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ تثلیث کا خیال کوئی جدید خیال نہیں ہے بلکہ انہ منہ رفتہ سے یہ خیال مختلف اقوام میں مختلف شکلوں میں پایا جاتا رہا ہے چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں Trinity کے زیر عنوان جو مقالہ لکھا گیا ہے اس میں یہ بات بھی درج ہے اس حصہ کا مفہوم یہ ہے کہ : " اگر چه نظریہ تثلیت مسیحی مذہب کی خاص خصوصیت ہے۔لیکن یہ اس مذہب کی امتیازی خصوصیت نہیں ہے۔ہندی مذہب میں ہمیں یہ ہما شیوا اور وشنو کا تشکیشی گروپ ملتا ہے۔قرون وسطیٰ کے باپ بیٹے اور ماں کی سیجی تصاویر کی طرح مصر میں ہمیں عزیر سی ، اسیس اور ہورس پرمشتمل خاندان نظر آتے ہیں " اسی طرح پہ جان رابرٹ سن John Robertson اپنی کتاب میں لکھتا ہے :۔"Pagan Christs" The conception of divine Trinity is of unknown antiquity۔It flourished in Mesopatamia, in Hindustan, in the platonic philosoply in egypt long before Christianity۔" ترجمہ یہ ہے کہ اپنی تثلیث قدیم زمانہ مجہول کا نظریہ ہے۔یہ نظریہ میں پوٹیمیہ ، ہندستان یہ اور افلاطون کی فلاسفی اور مصر میں عیسائیت سے بہت پہلے پھیلا پھولا ہے۔" ان دونوں حوالوں سے ایک بات ضرور ثابت ہو جاتی ہے کہ تثلیث کا خیال پرانے زمانوں سے انسانی خیال کی ایک پیداوار کے طور پر رہا ہے۔ہمارا استدلال بھی یہی ہے کہ یہ ایک انسانی خیال ہے کوئی خدائی یا الہامی توثیق اس عقیدہ کو حاصل نہیں ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تثلیث کے رد میں انسی دلیل کو پیش فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ عیسائیوں میں تثلیت کا یہ خیال افلاطون Pagan Christs by John Robertson۔