کسر صلیب — Page 152
۱۵۲ تثلیث کو ثابت کرنے کی خاطر عیسائی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ کیا عقلا ایسا ہونا ممکن نہیں کر مسیح واقعی خدا ہوں؟ عیسائیوں کی یہ دلیل جس قدر سطحی اور بودی ہے وہ تو واضح ہی ہے کیونکہ مسیح میں وہ صفات ہرگز نہیں پائی جاتیں جو خدائی صفات ہیں راس امر پر تفصیلی نظر ہم اگلے باب میں ڈالیں گے انشاء اللہ) یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس فرضی دلیل کو کس عمدہ طریق سے رو کیا ہے اور تثلیث کے خلاف کتنی شاندار دلیل پیش فرمائی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر عقل ہی سے استدلال کرنا ہے تو عقل کا فیصلہ تو کلی نوعیت کا ہوتا ہے۔عقل تو ہر فرد اور ہر چیز کے بارہ میں عمومی فیصلہ کرے گی۔اگر یہ کہو کہ عقلاً مسیح کے خدا ہونے کا امکان ہے تو ایسا امکان تو اور وجودوں کے لئے بھی ہوگا۔گویا حضرت مسیح کی کوئی خاص خصوصیت نہیں ہے۔اور اگر سب کو خدا مان ہیں تو تسلیت کا افسانہ نہیں بن سکتا۔پس عیسائیوں کا یہ استدلال بہت ہی کمزور اور غلط استدلال ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام تثلیث کے رد میں فرماتے ہیں :- عقل کا فیصلہ تو ہمیشہ کھلی ہوتا ہے اگر عقل کی رو سے حضرت مسیح کے لئے داخل " تثلیث ہونا روا رکھا جائے تو پھر عقل اوروں کے لئے بھی امکان اسکا واجب کہ دیگی گائے ظاہر ہے کہ یہ جواب ایسا ہے جیسے تثلیث کا سارا فسانہ باطل ہو جاتا ہے۔اس قسم کے دندان شکن جواب کی ایک اور مثال حضور کا وہ جواب ہے جو آپ نے لفظ الوھیم سے تثلیث کا استدلال کرنے کے رو میں دیا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :- " یہ کہتا کہ الوحید کا لفظ جو جمع ہے تثلیث پر دلالت کرتا ہے۔حالانکہ یہود نے کھلے کھلے طور پر ثابت کر دیا ہے کہ الوھیم کا لفظ توریت میں فرشتہ پر بھی بولا گیا ہے اور ان کے نبی پر بھی اور بادشاہ پر بھی۔اور لفظ الرحیم سے صرف تین شخص ہی کیوں مراد لئے جاتے ہیں۔کیونکہ جمع کا صیغہ تین سے زیادہ سینکڑوں ہزاروں پر بھی تو دلالت کرتا ہے۔سو ان بے ہودہ تاویلات سے بجز اپنی پردہ دری کرانے کے اور کیا انتھم کے لئے نتیجہ نکلا تھا۔مگر عیسائی بھی عجیب قوم ہے کہ اتنی ذلتیں اُٹھا کہ پھر بھی شرمندہ نہیں ہوتی ہے : ! : جنگ مقدس من روحانی خزائن جلد 4 سے :- انجام انتظم من روحانی خزائن جلد ۱۱ +