کسر صلیب

by Other Authors

Page 154 of 443

کسر صلیب — Page 154

۱۵۴ سے آیا ہے اور جس طرح افلاطون نے غلط فلسفہ کے نتیجہ میں اس عقیدہ کو اپنا یا اسی طرح کو سانہ تقلید کرتے ہوئے عیسائیوں نے اس غلط عقیدہ کو بسر و چشم قبول کر لیا۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں: پادری بوت صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیاد رکھ دی ہے کہ اے اس حوالہ سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ تثلیث کے عقیدہ کا اصل ماخذ کیا ہے۔اور اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے۔مختصر یہ کہ تثلیث کے عقیدہ کا تاریخی پس منظر اس کے بطلان کا ایک بڑا ثبوت ہے۔پندرھویں دلیل تثلیث کے مسیحی عقیدہ کے خلاف ایک اور دلیل یہ ہے کہ ان کے اپنے بیانات اور انکی کتاب کی تعلیمات سے ان کے عقیدہ کی تردید ہوتی ہے۔مثلاً تثلیث کے سیمی نقطہ نظر سے باپ اسٹاروح القدس برابرہ کے ازلی ابدی اقنوم ہیں۔کیونکہ ان تینوں کو co-equal اور Co-etermial قرار دیا جاتا ہے۔لیکن نئے عہد نامہ میں لکھا ہے کہ مسیح نے کہا :- آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہو وہ معاف نہ کیا جائے گا اور جو کوئی ابن آدم کے برخلاف کوئی بات کہے گا وہ تو اسے معاف کی جائے گی مگر جو کوئی روح القدس کے خلاف کوئی بات کہے گا وہ اسے معاف نہ کی جائے گی ندہ اس عالم میں ، نہ آنے والے میں کیا ہے اس حوالہ سے لیسوع اور روح القدس کے مقام میں تفاوت واضح طور پر نظر آتا ہے۔جو تثلیثی خیال کے سراسر خلاف ہے۔پھر حضرت مسیح ایک اور جگہ فرماتے ہیں: " لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھلائے گا۔اسلئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔وہ میرا جلال ظاہر کر رہے گا۔اس لئے کہ مجھ ہی سے حاصل کر کے تمہیں خبر دے گا۔جو کچھ باپ کا ہے وہ سب میرا ہے۔اس لئے میں نے کہا کہ وہ مجھ ہی سے حاصل کرتا ہے اور تمہیں خبر دے گا ؟ " براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیه مت روحانی خزائن جلدا به : متى ١٢/٣٢ : : - يوحنا : 1