کسر صلیب — Page 146
۱۴۶ پوری بریت کرتے اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کر انہیں ملزم کرتے اور اس حالت میں کہ ان پر کفر کا الزام لگایا گیا تھا تو ان کا فرض ہونا چاہیئے تھا کہ وہ فی الحقیقت خدا یا خدا کے بیٹے تھے تو یہ جواب دیتے کہ یہ کفر نہیں بلکہ میں واقعی طور پر خدا کا بیٹا ہوں اور میرے پاس اس کے ثبوت کے لئے تمہاری ہی کتابوں میں فلاں فلاں موقع پر صاف لکھا ہے کہ میں قادر مطلق عالم الغیب خدا ہوں اور لاڈیکیں دکھا دوں اور پھر اپنی قدرتوں طاقتوں سے ان کو نشانات خدائی بھی دکھا دیتے اور وہ کام جو انہوں نے خدائی سے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دے دیتے۔پھر ایسے بین ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہہ یا فریسی کی طاقت تھی کہ انکار کرتا وہ تو ایسے خدا کو دیکھے کہ سجدہ کر تھے۔مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیا کہ کہ دیا کہ تمہیں خدا لکھا ہے۔اب خدا ترس دل سے کہ غور کرو کہ یہ اپنی خدائی کا ثبوت دیا یا ابطال کیا۔تورات، اسلام، قانون قدرت ، باطنی شریعت تو توحید کی شہادت دیتے ہیں۔لہ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سب امور سے یہ استدلال فرمایا ہے کہ حضرت مسیحا علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی میں توحید کی منادی کی بلکہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر بھی اس پیغام کو پہنچا دیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف سے توحید کا یہ اقرار اور تبلیغ اس امرکا ایک بین ثبوت ہے کہ نہ وہ خود تثلیث کے قائل تھے اور نہ ان کی تعلیم شلیت کی تھی۔پس معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ بعد کی ایجاد اور بناوٹ ہے اور اس وجہ سے باطل ہے۔اٹھویں دلیل ا تثلیث کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دلیل یہ بیان فرمائی ہے۔کہ تثلیث کو تسلیم کرنے سے خدا تعالیٰ کی بعض صفات میں تقسیم لازم آتی ہے۔اور ایسا عقیدہ رکھنا خدا کی شان اور مرتبہ سے بعید ہے اور چونکہ تثلیث میں لانگا یہ تقسیم ہوتی ہے اس لئے عقیدہ ہی باطل ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دیگر مذاہب کی طرح عیسائیت بھی خدائی صفات کی قائلی ہے۔بلکہ اس بات کی دعویدار ہے کہ تینوں خدائی اقانیم میں سے ہر قوم اپنی ذات میں کامل نیکل ه : خفوقات جلد سوم مثل :