کسر صلیب

by Other Authors

Page 145 of 443

کسر صلیب — Page 145

۱۴۵ گمان کر سکتا ہے کہ اس نے در حقیقت خدائی کا دعویٰ کیا تھا؟ اے حضرت مسیح کا یہ فقرہ جہاں ان کی اپنی خدائی کا سد کرتا ہے وہاں انس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ ان کے ذہن میں تثلیث یا تین خداؤں کا کوئی تصویر ہر گز ہرگز موجود نہ تھا ورنہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس انداز سے خُدا کو پکارتے جو خالص موحدانہ طریق ہے۔انجیل سے اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ حضرت مسیح نے جب بھی خدا کا ذکر کیا توحید ہی کا بیان ان کی زبان پر جاری ہوا لکھا ہے :- " اس سے پوچھا کہ سب حکموں میں اوّل کون سا ہے ؟ لیسوع نے جواب دیا کہ اول یہ ہے کہ اسے اسرائیل سُن خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارہ سے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی سازی طاقت سے محبت رکھی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ بالا حوالہ اور یوحنا پڑا کے حوالہ کی طرف اشارہ کر تے ہوئے فرماتے ہیں :- "سب سے بڑھ کر حضرت مسیح کا اپنا اقرار ملاحظہ کے لائق ہے۔وہ فرماتے ہیں۔سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اسے اسرئیل مشن وہ خدا وند جو ہمارا خدا ہے۔ایک ہی خدا ہے۔پھر فرماتے ہیں۔حیات ابدی یہ ہے کہ ویسے تجھ کو اکیلا سچا خدا اور مسبوع مسیح کو جسے تم نے بھیجا ہے جائیں۔یوجنا یا " سے صرف زبانی اقرار پریس نہیں بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے زندگی کے نازک سے نازک موقع پہ بھی اسی پیغام کو بیان کیا جوان کی زندگی کا حقیقی مشن تھا۔یعنی توحید - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو مندرجہ ذیل تفصیلی حوالہ میں بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں "انجیل کا ایک بہت بڑا حصہ بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ خدا ایک ہے۔مثلاً جب مسیح کو یہودیوں نے اس کے اس کفر کے بدلے میں کہ یہ ابن اللہ ہونے کا دعوی کرتا ہے پتھراؤ کرنا چاہا تو اس نے انہیں صاف کہا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ تم خدا ہو۔اب ایک دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس الزام کے وقت تو چاہئیے تھا مسیح اپنی ۱۲ - چشمه سیحی ماه روحانی خزائن جلد ۲۰ سے : - مرقس : - -:- جنگ مقدس صله روحانی خزائن جلد ۶ :