کسر صلیب — Page 147
۱۴۷ اور جملہ خدائی صفات سے متصف ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض صفات ایسی ہیں جو دوسرے ہمسر وجود کے عدم کا تقاضا کرتی ہیں۔مثلاً خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اب یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر تینوں خدائی اقانیم میں سے ہر اقنوم اپنی ذات میں واحد ہے تو دوسرے اقنوموں کا وجود باطل ہو جاتا ہے اور اگر یہ صورت مان لی جائے تو تثلیث باطل ہو جاتی ہے اور اگر یہ صورت نہ مانی جائے تو پھر خدائی صفات میں تقسیم لازم آتی ہے جوحقیقت میں نا قاب تقسیم میں اسطرح پر اوربھی بہت سی صفات میں تقسیم نازم آئے گی۔اسکی بغیر چارہ نہیں۔اور جب بھی ایسا ہو گا تثلیث باطل ہو جائے گی کیونکہ جس خدا کی ایک صفت بھی کم ہو جائے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔خدا وہی ہے جو اپنی جملہ صفات کے ساتھ کامل اور مکمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو اپنی کتاب جنگ مقدس میں بیان فرمایا حضور کے الفاظ میں یہ دلیل یوں ہے۔خدا اپنی صفات کا ملہ میں تقسیم نہیں ہو سکتا اور اگر اس کی صفات تامیہ اور کاملہ میں سے ایک صفت بھی باقی رہ جائے تب تک خدا کا لفظ اس پر اطلاق نہیں کر سکتے تو اس صورت میں میری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ تین کیونکر ہو گئے " 1 نویں دلیل عیسائیت کے عقیدہ تثلیث کے رد میں ایک بڑی مضبوط اور ٹھوس دلیل یہ ہے کہ اس عقیدہ کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں خدا تعالیٰ کی مختلف صفات میں ٹکراؤ نظر آتا ہے۔مثلاً اس عقیدہ کی رو سے تینوں اقنوم اپنی اپنی جگہ پر قادر مطلق نہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان میں سے ہر ایک کو مکمل اختیارہ اور قدرت حاصل ہے ؟ عملی زندگی کا سوال الگ رہا۔نظری طور پر ہی ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایسا ہونا ایک امر محال ہے۔اختیار اور قدرت کا کمال ایک محدود دائرہ ، مقام ، اور وقت کو چاہتا ہے جب تک اس کی تعین نہ ہو کماں کے لفظ کا صحیح اطلاق نہیں ہو سکتا۔اگر تینوں اقنوموں کو الگ الگ طور پر مکان و زمان کی قید میں محدود کیا جائے تو یہ کمال نہیں رہتا اور اگر مطلق قدرت کا خیال رکھا جائے اور ہر ایک کو قاد مطلق قرار دیا جائے تو ایک ہی مکان و زمان میں تین قادر مطلق ہستیوں کا وجود عقلاً محال ہے۔پس ثابت ہوا کر تین وجود ایک ہی وقت میں جملہ صفات سے متصف ہو کہ درجہ کمال کو حاصل نہیں کر سکتے۔:- جنگ مقدس ص ۲ روحانی خزائن جلد ۶ : 1