کسر صلیب — Page 144
۱۴۴ مانتا ہے جس طرح دوسرے عیسائی یہ لے ان تین حوالوں سے بالکل عیاں ہو جاتا ہے کہ تثلیث کے عقیدہ کو انجیل کی توثیق حاصل نہیں ہے۔انجیل بذات خود کوئی قابل اعتبار اور قابل اعتماد کتاب نہیں کیونکہ اس کا الہامی ہونا ہی ثابت نہیں پس جبکہ تثلیث کے عقیدہ کو اس جیسی نا قابل اعتماد کتاب کی تائید بھی حاصل نہیں اور اس کے واضح اور مکمل بیان کے خلاف منقولی اور واقعاتی شہادتیں موجود ہیں تو اس عقیدہ کے مبنی بر حقیقت ہو نے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ساتویں دلیل تثلیث کے رد میں ساتویں دلیل یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ہمیشہ توحید کی تعلیم دی اور اسی بات کی منادی کی کہ خدا ایک ہے۔اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔یہ ایک ایسی واقعاتی دلیل ہے کہ جو تثلیث کے موقف کو انتہائی کمزور کر دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے :- "حضرت مسیح نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے نہیں دی اور وہ زندہ رہے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے تھے اگر یہ سوال ہو کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مسیح علیہ السلام نے ہمیشہ توحید کی منادی کی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو حضرت مسیح کے اقوال موجودہ انجیل میں موجود ہیں جو واضح طور پر توحید پر دلالت کرتے ہیں اور دوسرے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آئے ، جہاں ان پر خدا یا خدا کے بیٹے ہونے کا الزام لگایا گیا۔گویا ان کو تثلیث کا ایک جزوہ بنا کر پیش کیا گیا۔انجیل سے ثابت ہے کہ مسیح نے ان تمام موقعوں پر اپنے خدا ہونے کا انکار کیا اور اس طرح گویا اپنے قول اور فعل سے اس بات کی تردید کر دی کہ کوئی اور شخص خدا کی خدائی میں شریک ہے۔حضرت مسیح کی طرف سے توحید کے اقرار کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرماتے ہیں :- ان کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت ان کے منہ سے نکلا کیسا تو حید V پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اسے میرے خدا! اسے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔کیا جو شخص اس عاجز بی عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خُدا میرا رب ہے اس کی نسبت کوئی عقلمند سه : ملفوظات جلد سوم ۱۳ : -۲: چش در سیمی ص ۲ روحانی خزائن جلد ۲۰ : صدا :