کسر صلیب

by Other Authors

Page 142 of 443

کسر صلیب — Page 142

دوم! دھ 1- جوانجیل آج موجود ہے باوجودیکہ اس میں بہت تحریف ہو چکی ہے۔لیکن پھر بھی اس میں توحید کی تعلیم کا بیان ملتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ تثلیث باطل ہے اور یہ عقیدہ بعد میں بنا کہ اناجیل میں داخل کر دیا گیا ہے۔اناجیل کے جن بیانات سے توحید کا واضح ثبوت سکتا ہے ان میں سے چند ایک بطور نمونہ یہ ہیں۔لکھا ہے :- I "بہت دنیا میں کچھ چیز نہیں اور سوا ایک کے اور کوئی خدا نہیں کالے ۲۰ - " ہمارے سے نزدیک تو ایک ہی خدا ہے " سے ۳۔خدا ایک ہی ہے" سے " خدا ایک ہی ہے " سے الغرض اس قسم کے متعدد حوالے انجیل میں موجود ہیں۔تثلیث کے خلاف ہمارا استدلال یہ ہے کہ اول تو انجیل میں تثلیث کا ذکر نہ ہونا اس کی باطل ہونے کا ایک بڑا ثبوت ہے۔کیونکہ کوئی ایسا اہم مذہبی عقیدہ نہیں ہو سکتا جس کا ذکر اس مذہب کی مقدس کتاب میں نہ ہو۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات کہ انجیل سے توحید کا اقرارہ فنا ہو۔پھر تو تثلیث کے باطل اور خود تراشیدہ عقیدہ ہو نے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔چھٹی وکیل عقیدہ تثلیث کے ابطال پر چھٹی دلیل یو نیٹرین فرقہ کا وجود ہے۔یہ عیسائیوں کا ایک فرقہ ہے جو کتا بتقدس کو ماننے کے باوجود تثلیث کا قائل نہیں بلکہ توحید کو درست مانتے ہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس فرقہ کے وجود کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ تثلیث کی تعلیم انجیل میں موجود نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر انجیل میں تشکیت ہی کی تعلیم ہوتی اور اس بات کی پوری وضاحت ہوتی تو کیا وجہ ہے کہ عیسائیوں کا ایک فرقہ اس کتاب کو ماننے کے باوجود تسلیت کا انکار کر کے توحید کا اقرار کرتا۔اس فرقہ کا توحید پر قائم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تثلیث کا مکمل اور مفصل ذکر انجیل میں نہیں ہے۔اور یہ امر تشکلیت کے ابطال پر ایک زیر روست دلیل ہے۔وہ بنیادی اور اساسی عقیدہ ہی کیسا جس پر نجات کا دارو مدار ہو لیکن اس کا ذکر اور اسکی نے کی نیتیوں پر : ته : گیتوں ۳۲ + نا کرنتھیوں + :- یعقوب ۱۹ :