کسر صلیب

by Other Authors

Page 141 of 443

کسر صلیب — Page 141

۱۴۱ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : انجیل میں تثلیث کا نام و نشان نہیں لے ایک اور موقع پر آپ فرماتے ہیں :- " سچ تو یہ ہے کہ تثلیث کی تعلیم انجیل میں بھی موجود نہیں۔انجیل میں بھی جہاں تعلیم کا بیان ہے ان تمام مقامات میں تثلیث کی نسبت اشارہ تک نہیں بلکہ خدائے واحد لا شریک کی تعلیم دیتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے معاند پادریوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ انجیل میں تثلیث کی تعلیم نہیں " " حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے اس قول کی تصدیق مندرجہ ذیل حوالہ سے ہوتی ہے۔اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :- Rev۔E۔R۔Hul "In the new testament even the most essential points of doctrine are touched so incidently, and require such careful study and balaucing of different texts that it is an extremely delicate matter to arrive at a definite conclusion۔" * اس سے ثابت ہوا کہ مسیح پاک علیہ السلام کا یہ دعویٰ کہ انجیل میں تثلیث کا ذکر نہیں ہے۔بلا دلیل نہیں ہے بلکہ خود عیسائی اس کے معترف ہیں اور پھر یہ ایک ایسا واقعاتی امر ہے جس کی پڑتال ہر انسان کر سکتا ہے۔انجیل آج بھی موجود ہے لیکن اس میں صحیح معنوں میں تثلیث کا ذکر نہیں۔یہ درست ہے کہ عیسائی بعض آیات سے ایسا استدلال ضرور کرتے ہیں : لیکن انجیل سے تثلیث کا استدلال کرنا دو وجوہ سے باطل ٹھہرتا ہے اقول : انجیل میں تثلیث کا کوئی واضح بیان نہیں حالانکہ ایسا ہونالازمی تھا کیونکہ یہ عقیدہ عیسائیت کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔اس بات کا ثبوت پیش کرنا کہ انجیل میں تثلیث کا ذکر موجود ہے۔عیسائیوں کے ذمہ ہے کیونکہ وہی اس امر میں مدعی ہیں میسیج پاک علی السلام نے زمایا ہے :- باره ثبوت مدعی کے ذمہ ہے جو تثلیث کا قائل ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دلائل دیے ہے : نور القرآن نمبر ا ص روحانی خزائن جلد نمبر : ۵۲: چشمه سیحی صدا روحانی خزائن جلد نمبر ۲ "What catholic church is and what she teaches" by Rev E۔R۔Hul۔-ič سه : ملفوظات جلد سوم ملتا ہے