کسر صلیب — Page 140
۱۴۰ رہے ان کو ایک ایسی تعلیم سے بالکل بے خبری ہو جا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی معرفت انہیں ملی ہو۔اور مدارہ نجات بھی وہی ہو۔یہ بالکل خلاف قیاس اور بے ہودہ بات ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ خود تراشیدہ عقیدہ ہے ؟ لیے مسیح پاک علیہ السلام کے یہ حوالہ جات اس دلیل کے سلسلہ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔یہود کا توحید کی تعلیم پر اتفاق ہونا ان سب کا تشکلیث سے انکار کرنا ایک اور قرینہ اس بات پر ہے کہ یہود کو واقعی توحید کی تعلیم دی گئی تھی اور وہ اس پر قائم رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- در پس یہودیوں میں توحید پر اتفاق ہونا اور تشکلیت پر کسی ایک کا بھی قائم نہ ہوتا صریح دلیل اسی امر کی ہے کہ یہ باطل ہے" سے پس اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ یہود کو توحید کی تعلیم دی گئی تھی اور حضرت مسیح اپنے بیان کے مطابق اس کے پابند ہیں اور عملاً پابند رہے ، اس صورت میں تثلیث کا عقیدہ جو موجودہ عیسائی پیش کرتے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کا پیش کردہ یا الہامی عقیدہ نہیں ہو سکتا بلکہ حتی یہی ہے کہ یہ بعد کی ایجاد ہے اور ایک باطل عقیدہ ہے۔پانچویں دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تثلیث کے ابطال میں پانچویں دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ انجیل میں کو عیسائی لوگ اپنی مقدس کتاب سمجھتے ہیں اور جو ان کی تعلیمات کا مجموعہ ہے۔اس میں تشکیت کا کوئی ذکر جوان 1 تک موجود نہیں ہے۔توحید عیسائی مسلمات کی رو سے عیسائیوں کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔لہذا اس کا ذکر پوری تفصیل اور صراحت کے سا تھ اس کتاب میں ہونا چاہیے جو ان کی سب سے مقدس مذہبی کتاب ہے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیوں کی کتاب انجیل میں نہ تثلیث کا لفظ موجود ہے اور نہ اس عقیدہ کی وضاحت درج ہے۔اسی بات کو مسیح پاک علیہ السلام نے بطور دلیل بیان فرمایا ہے۔آپ بڑی تحریمی کے ساتھ فرماتے ہیں :- انجیل میں تو نہ با صراحت اور نہ بالفاظ کہیں تشکیت کا لفظ موجود ہے اور نہ رحم بلا مبادلہ کا " سے ے: ملفوظات جلد سوم حثنا : : جنگ مقدس صد کا روحانی خزائن جلد : : ملفوظات جلد سوم مثلا :