کسر صلیب — Page 136
۱۳۶ (1) نبیوں کے صحیفوں میں اس کا کوئی پتہ نہیں، اور ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ حق کے خلاف ہے یا سے (٣) ہم عیسائیوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر واقعی تثلیت کی تعلیم تھی تھی اور نجات کا یہی اصل ذریعہ تھا تو پھر کیا اندھیر بچا ہوا ہے کہ توریت میں اس تعلیم کا کوئی نشان اس میں نہیں کتا۔یہودیوں کے اظہار نے کہ دیکھ لو " ۲ رہ کیا (F) نہ میں نے ایک یہودی سے دریافت کیا تھا کہ توریت میں کہیں تثلیث کا بھی ذکر ہے اور یا تمہار سے تعامل میں کہیں اس کا بھی پتہ لگتا ہے اس نے صاف اقرار کیا کہ ہر گنہ نہیں۔ہماری توحید وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے۔اور کوئی فرقہ ہمارا تثلیث کا قائلی نہیں۔اس نے یہ کہا کہ اگر تثلیث پر مدار نجات ہوتا تو ہمیں جو توزیت کے حکموں کو چوکھٹوں پراور آستینوں پر لکھنے کا حکم تھا کہیں تثلیث کے لکھنے کا بھی ہوتا یہ ہے پر (۴) " توریت میں لکھا تھا کہ دوسرا خدا نہ ہو۔نہ آسمان پر نہ زمین پر پھر دروازوں اور چوکھٹوں یہ تعلیم بھی گئی تھی اس کو چھوڑ کر یہ نیا خدا تراش گیا جس کا کچھ بھی پتہ توریت میں نہیں ملتا۔یں نے فاضل یہودیوں سے پوچھا ہے کہ کیا تمہارے ہاں ایسے خدا کا پتہ ہے جو مریم کے۔پیٹ سے نکلے اور وہ یہودیوں کے ہاتھوں سے ماریں کھانا پھر سے۔اس پر یہودی علماء نے مجھے یہی جواب دیا کہ یہ محض افتراء ہے۔توریت سے کسی ایسے خدا کا پتہ نہیں ملتا۔ہمارا وہ خدا ہے جو قرآن شریف کا خدا ہے۔یعنی جس طرح پر قرآن مجید نے خدا تعالی کی وحدت کی اطلاع دی ہے اسی طرح پھر ہم توریت کی کہ دو سے خدا تعالیٰ کو وحده لاشریک مانتے ہیں اور کسی انسان کو خدا نہیں مان سکتے " سے ه : ملفوظات جلد سوم مث ه : ملفوظات جلد سوم صدا ے لیکچر لدھیانه من - ۲۱ روحانی خزائن جلد ۲۰ :