کسر صلیب — Page 135
۱۳۵ میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی عبادت کرنا۔کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں کہ ان تیمین حوالہ جات سے جو بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہود کو ان کی کتاب مقدس میں توحید کی تعلیم دی گئی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو حکم تھا کہ وہ اس تعلیم کو یاد رکھیں اور کسی صورت میں بھولنے نہ دیں ان کو یہ بھی حکم تھا کہ اس تعلیم کو دروازوں کی چوکھٹوں پر لکھ رکھیں تا کسی وقت بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہو۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ تعلیم ان کے دل پر ر نقش ہو جائے لکھا ہے :- پر " یہ باتیں جن کا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں " سے اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ یہود کا اس بارہ میں اعتقاد اور عمل اس بات میں کسی قسم کا شک باقی نہیں رہنے دیتا کہ واقعی ان کو توحید کی تعلیم دی گئی تھی۔اس امر کو ثابت کر نے کے بعد کہ : و - یہود کو توحید کی تعلیم دی گئی تھی۔۔ب۔اس تعلیم کو برابر یاد رکھنے اور دل پر نقش کرنے کی تاکیدی ہدایت تھی۔جہ یہود کا اپنا اقرار اور عمل اس پر شاہد ناطق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ جبکہ حضرت مسیح توریت کے تابع نبی تھے اور ان کا اپنا اقرار موجود ہے کہ میں اس کتاب کی تعلیم کو ہی انہ میرنو زندہ کرنے آیا ہوں ،تو کبھی یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ توحید کی بجائے تثلیث کی تعلیم دیں۔اور جیسا کہ ہم آئندہ دیکھیں گئے کہ حضرت + عیسی علیہ السلام نے کبھی تشکیت کی تعلیم نہیں دی بلکہ اپنی ساری عمر توحید کی تبلیغ کہتے رہے۔پس یہود کو توحید کی تعلیم ملنا اور حضرت مسیح علیہ السلام کا اس تعلیم کا پابند ہونا اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ تثلیث کا موجودہ معقیدہ جس کو عیسائی لوگ بڑے زور سے پیش کرتے ہیں حضرت عیسی علیہ ال یر اسلام کا بیان کردہ نہیں بلکہ ایک باطل اور خود تراشہ عقیدہ ہے اور یہ عقیدہ ان کی اس کتاب کے سراسر خلاف ہے جس کو وہ اپنی مقدس کتاب قرار دیتے ہیں۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے تثلیث کے رد میں اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔: خروج : ت: استثناء :