کسر صلیب — Page 98
مذہب کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ایک پاکیزہ اور روحانی زندگی عطا کر سے اور تازہ بتازہ نشانات سے ان کے ازدیاد ایمان کا سامان پیدا کرتا رہے جیسے اللہ تعالیٰ نے زندہ مذہب کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ :۔i " تُؤتي أكلَهَا كُل حِينِ بِاذْنِ رَبِّهَا - (سورة البراهيم (۲۶) - (٢٦) کہ زندہ مذہب اپنے تازہ بتازہ پھل نشانات کی صورت میں پیش کرتا ہے۔اور متبعین کے ایمان کو بڑھا کر ان میں ایک روحانی انقلاب پیدا کرتا ہے۔او حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دعویٰ فرمایا اور ثابت فرمایا کہ یہ پاکیزہ زندگی اور روحانی برکات عیسائیوں میں ہر گز موجود نہیں ہیں بلکہ کفارہ نے ان کو گنا ہوں پیر اور زیادہ دلیر کر دیا ہے۔آپ نے یہ چیلنج کیا ہے کہ عیسائیت اب ایک مردہ مذہب ہے جس کے ماننے سے کسی کو کوئی روحانی برکت یا نشان نصیب نہیں ہو سکتا۔اس بارہ میں آپ نے عیسائیوں کو اور ان کے پادریوں کو بار بارہ دعوت مقابلہ دی۔ان کو غیرت اور شرم دلا کہ انس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش فرمائی کہ وہ مد مقابل آکر اسلام سے عیسائیت کی برکات روحانیہ کا مقابلہ کر نہیں لیکن کوئی پادری اس بات کے لئے تیار نہ ہوا۔عیسائی پادریوں کا یہ فرانہ گویا اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرنا تھا کہ واقعی ان کا مذہب ایک مردہ اور بے نشان مذہب ہے۔عیسائی مذہب کے مردہ اور بے فیض ثابت کرنے کے لئے حضور نے ایک زندہ اور کامل مذہب کی نشانیاں بیان فرمائیں۔اس ضمن میں حضور علیہ السلام کے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں: " سچے مذہب پر خدا کا ہا تھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود کہ ہوں۔۔۔۔۔۔سچا مذہب رہی ہے جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے غرض سچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے کالے نیز تحریر فر مایا : - وہ مذہب جو محسن خدا کی طرف سے ہے اس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہوتا معلوم ہو کہ وہ خاص اللہ تعالٰی کے ہاتھ سے ہے کہ صد سه : چشمه مسیحی ملاله ۲۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ : سه چشمه مسیحی صن روحانی خزائن جلد ۲۰ : : به ۲۰؛