کسر صلیب — Page 97
9< جس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے اور مخلص بندوں کے حق میں بباعث ان کے کمال صدق اور محبت کے بیٹے کا لفظ بولا ہے۔اسی طرح سے حضرت عیسی بھی انہی کی ذیل میں ہیں۔حضرت عیسی میں کوئی ایسی بڑی طاقت نہ تھی جو اور نبیوں میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان میں کوئی ایسی نئی بات پائی جاتی ہے جیسی دوسر سے محروم رہے ہوں یہ کہ (۴) ور میں حضرت عیسی علیہ السلام کی شان کا منکر نہیں۔۔۔۔۔میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔۔۔مفید اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا کہ نہ (۵) یں نبیوں کی عزت اور حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم کی فضیلت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے " سے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی بھی مرحلہ پر انصاف اور حق گوئی کے مامورانہ منصب سے سیر مو انحراف نہیں کیا۔آپ نے الزامی جوابات دیتے ہوئے عیسائیوں کو ان کی تحریرات کی رو سے ملزم بھی کیا لیکن اس کے ساتھ اپنے اصلی موقف اور نظریہ کی وضاحت بھی غیر مبہم الفاظ میں فرما دی لاریب یہ خوبی آپ کے مامورانہ علم کلام کا ایک نمایاں وصف ہے۔عیسائیت میں برکات روحانیہ کا فقدان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خداداد علم کلام کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ جہاں آپ نے عیسائی مذہب کے عقائد اور تعلیمات کار ڈفرمایا ہے وہاں اس مذہب کو بحیثیت مذہب ایک بے فیض اور مردہ مذہب ثابت کیا جواب اپنے متبعین کو کوئی نشان یا برکت عطا نہیں کر سکتا۔عیسائیت میں برکات روحانیہ کا فقدان ایک ایسا زبردست اعتراض ہے جس کی موجودگی میں عیسائی منادوں کے بلند بانگ دعا دی بے حقیقت ہو کر رہ جاتے ہیں۔F : ملفوظات جلد دہم ص سے کشتی نوح من روحانی خزائن جلد ۱۹ : سه : ملفوظات جلد دوم ص : هنگا: