کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 80 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 80

مسلمانوں کا گشت وخون ۲۱ ستمبر کو شیخ محمد عبد اللہ اسلامیہ سکول کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے۔کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔مسلمانوں نے ۲۲ ستمبر کو احتجاجی پر امن جلوس نکالا پولیس نے تشدد کیا گھوڑ سواروں نے گھوڑوں کے پاؤں تلے روندا۔لاٹھی چارج ہوا۔گولی چلی۔خون بہا۔۔۔۔۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے بھیجے ہوئے وکیل نے اپنی آنکھوں دیکھے حالات اور شہید ہونے والوں کا خون سے رنگا ہوا کپڑا اور خون سے کاغذ پر یہ الفاظ لکھ کر بھجوائے۔مقتول مسلمانوں کا خون صفحہ کا غذ پر مظلمومیت کی آواز بلند کر رہا ہے 1 1 راقم الحروف نے بھی یہ کپڑا اور خون سے لکھا ہوا کاغذ دیکھا تھا) یہ وکیل چودھری عصمت اللہ خاں ایڈووکیٹ تھے جوصدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے حکم سے اپنا سارا کام چھوڑ کر مسلمانان کشمیر کی مدد کے لیے وہاں پہنچ گئے تھے۔۲۳ ستمبر کو اسلام آباد میں سری نگر سے بھی زیادہ کشت وخون ہوا۔پچیس مسلمان گولیوں سے مارے گئے۔اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوئے۔بقول سقراط کا شمیری حکومت کے بے رحم ہاتھوں نے پھر مسلماں کے سینے گولی چلادی وہ سینہ تھی جس میں امانت خدا کی وہی خاک میں وحشیوں نے ملادی شوپیاں میں بھی خون ریزی ہوئی۔اور قصبہ ملٹری کے ہاتھ میں دیا گیا۔۲۴؍ ستمبر کو ساری ریاست میں برہما آرڈی نینس کی طرز کا آرڈی نینس جاری کر دیا گیا۔جس کے نتیجہ میں 84 =