کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 79 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 79

۔اگر سرکاری خزانہ اخراجات کی ذمہ داری اٹھائے تو ہمارے سر سے سب سے بڑا بوجھ اُترتا تھا۔احرار کی راہ میں مالیات ہی سد سکندری ہے 1 تاریخ احرار ص (۴۶) ساری قوم کی نمائندگی کا دعوی۔۔۔۔اور غیر ارادی طور پر بھی دل محسوس کئے بغیر نہیں رہ پاتا کہ وہ لوگ جنہیں یہ زعم باطل تھا کہ وہ ساری قوم کے نمائندے ہیں۔کیا ان لوگوں کے لیے قوم اتنا بھی نہ کر سکی۔کہ ان کے کھانے اور رہائش کے اخراجات جو ان دنوں پچاس روپے فی کس ماہوار سے ہرگز زیادہ نہ تھے۔ادا کر دیتی اور پھر اُس وفد نے سرکار کا مہمان اس حال میں بننا ضروری سمجھا کہ (بقول اُن کے لیڈر کے ) جب وہ سری نگر پہنچے تو لوگ انہیں شک وشبہ کی نظر سے دیکھتے تھے“۔اور اُن کے متعلق خیال کرتے تھے کہ بس آئے ہیں ریاستی خزانے سے جیبیں بھر کو لوٹ جائیں گئے۔2 ( تاریخ احرارص (۴۵) بھلا ریاست کے مسلمانوں کوشک کیوں نہ ہوتا آخر وہ پنڈت جیون لال مقو سے بھی تو واقف تھے جو ان کا میزبان تھا۔کچھ دن اور گزر گئے۔رفتہ رفتہ ریاست کو بھی ان لوگوں کی قدر و قیمت معلوم ہوگئی۔مہمان نوازی میں فرق آنے لگا۔آخر کشمیر سے واپس لوٹنا پڑا۔انہیں تسلیم ہے کہ ہم کشمیر سے ناکام لوٹ آئے۔3 ( تاریخ احرار ص ) البتہ آتی دفعہ اپنے میز بانوں مہاراجہ ( ہری سنگھ ) اور وزیر اعظم (ہری کشن کول) سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل کر لیا۔ان کے میز بانوں نے ان کو دوبارہ کشمیر بلایا۔اور شیخ محمد عبداللہ کو رام کرنے کا فرض اُن کے سپر د ہوا لیکن کشمیریوں کے اس ذہین لیڈر کو اپنا ہم خیال بنانے میں اُن کو سراسر نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا ہیہات یہی لوگ بزعم خویش احرار ہونے کے مدعی تھے۔83