کشمیر کی کہانی — Page 76
حکومت کے بے رحم ہاتھوں نے پھر سے مسلماں کے سینہ پر گولی چلادی تھی جس میں امانت خدا کی وہ سینہ وہی خاک میں وحشیوں نے ملادی (سقراط کاشمیری) مهمانان خاص اگست ۳۱ء کے آخر میں سرینگر میں ایک اہم واقعہ پیش آیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مساعی کے نتیجہ میں ریاست پر ہر طرف سے دباؤ پڑ رہا تھا۔ایجی ٹیشن دن بہ دن زور پکڑ رہی تھی۔ریاست کے ہندو وزیر اعظم بعض بیرونی مسلمانوں سے گہرے تعلقات رکھتے تھے وہ ایسے لوگوں کو ریاست کا مہمان بنا کر بلوا ر ہے تھے۔جنہیں آلہ کار بنا کر ایجی ٹیشن کو ختم کر سکیں۔ایک صاحب جو نواب اور سر کے خطابوں سے نوازے جاچکے تھے 1۔(1) نواب سر مبر شاہ) وزیر اعظم ہری کشن کول کے گہرے دوست تھے۔انہوں نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لیے پیش کیا۔اور سرینگر پہنچ کر انہوں نے مسلمان نمائندوں کو کسی نہ کسی طرح آمادہ کر کے ریاست سے ایک صلح نامہ پر دستخط کر والیے۔یہ صلح نامہ کو عارضی تھا تاہم مسلمانوں کے لئے مفید نہ تھا۔جب اس کی اطلاع صدر محترم کشمیر کمیٹی کو ہوئی تو انہوں نے اس پر مفصل تبصرہ کیا۔جو اخبارات میں شائع ہوا۔اس کے علاوہ اُسے ہزاروں کی تعداد میں علیحدہ چھپوا کر کشمیر 80 00