کشمیر کی کہانی — Page 77
کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا گیا۔اس تبصرہ کے آخر پر آپ نے مسلمانان کشمیر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمیں گرے ہوئے دودھ پر بیٹھ کر رونے کی ضرورت نہیں ہمارا فرض یہ ہے کہ موجودہ حالت سے جس قدر فائدہ اُٹھا سکیں اُٹھا ئیں اور اس کے ضرر سے جس قدر بیچ سکیں ،بچیں۔یہ ہر حال یہ معاہدہ مسلمانوں کے نمائندوں نے کیا ہے۔اس لیے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کی پوری طرح اتباع کریں۔کیونکہ مسلمان دھو کے باز نہیں ہوتا۔اور جو قوم اپنے لیڈروں کی خود تذلیل کرتی ہے وہ کبھی عزت نہیں پاتی “ ایک اور یادداشت بھجوائیں پھر لکھا کہ دستخط کرنے والے نمائندگان ریاست کو ایک دوسری یادداشت یه بھجوادیں کہ چونکہ عارضی صلح کا وقت کوئی مقرر نہیں۔اور یہ اصول کے خلاف ہے۔اس فروگذاشت کا علاج ہونا چاہیے۔پس ہم لوگ یہ تحریر کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک اس کی معیاد ہوگی۔اگر ایک ماہ کے اندر مسلمانوں کے حقوق کے متعلق ریاست نے کوئی فیصلہ کر دیا یا کم از کم جس طرح انگریز حکومت نے ہندوستانیوں کے حقوق کے متعلق ایک اصولی اعلان کر دیا ہے کوئی قابل تسلی اعلان کر دیا۔تب تو اس عارضی صلح نامہ کا زمانہ لمبا کر دیا جائے گا۔یا اسے مستقل صلح کی صورت میں بدل دیا جائے گا۔لیکن اگر ایک ماہ میں ریاست نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق نہ دیئے یا ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا تو یہ صلح ختم سمجھی جائے گی اور دونوں فریق اپنی اپنی جگہ آزاد ہوں گئے۔اس تبصرہ کا سارے کشمیر میں خاطر خواہ اثر ہوا۔چنانچہ 4 ستمبر کو سری نگر سے ( آمدہ) 81