کشمیر کی کہانی — Page 74
واللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ مظلوم جو سینکڑوں سال سے ظلم وستم کا شکار ہور ہے ہیں۔ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں اس لئے پھینکوائی ہیں تا کہ اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے۔۔۔فرمایا:۔وو ہم ان ہاتھوں کی جنہوں نے پتھر برسائے۔ان زبانوں کو جنہوں نے اس کے لیے تحریک کی۔اور اس کنجی کو جو اس کا باعث ہوئی معاف کرتے ہیں۔کیونکہ جس مہم کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے۔اس کے مقابلہ میں یہ تکلیف جو ہمیں پہنچائی گئی۔بالکل معمولی ہے۔۔۔تقریر کے بعد ڈپٹی کمشنر آپ کے پاس آیا اور معذرت کی۔سپر نٹنڈنٹ پولیس جائے رہائش تک آپ کے ساتھ گیا اور بار بار معذرت کرتا رہا۔قیام گاہ پر پہنچتے ہی مختلف خیالات اور عقائد کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان فتنہ پردازوں کی حرکات پر نفرت کا اظہار کیا۔اور معذرت وندامت کا یہ سلسلہ رات کے ایک بجے تک جاری رہا۔بعض لوگوں کو کسی زمانہ میں یہ زعم باطل رہا ہے۔کہ وہ بے قابو مجمع کو اپنی سحر بیانی سے مسحور کر سکتے ہیں۔میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان میں کوئی اس طاقت کا مالک بھی تھا۔جس طاقت سے ان حالات میں ہزاروں کے مجمع کو صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے مسحور کیا۔اور جس طرح با وجود طاقت رکھنے کے ہر شخص نے پتھر کھائے۔زخمی ہوئے (لیکن اپنے لیڈر کے حکم کی وجہ سے اپنی اپنی جگہ پر جمے رہے اور ایک انچ نہ سر کے۔۔کیا وہ بھی ایسا نمونہ دکھلا سکتا تھا۔حملہ آوروں کی جرات اور دلیری کا تو اس بات ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ اب اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا۔تو دومنٹ کے اندر ہی میدان صاف تھا! 78