کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 73 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 73

کہ اسے کہہ دیں کہ ہم ایک گھنٹے سے اس انتظار میں ہیں کہ آپ ان شرارتیوں کا انتظام کریں گے لیکن پولیس کوئی انتظام نہ کر سکی۔اب اگر آئندہ پانچ منٹوں کے اندر اندر ان شر پسندوں کو مار بھگائیں تو بہتر ورنہ ہم خود ایسا انتظام کرنے پر مجبور ہوں گے۔اور نتائج کی ذمہ داری آپ پر ہوگی اس پیغام کے پہنچتے ہی تمام مشینری تیزی سے حرکت میں آئی اس نے ان لوگوں کو منتشر ہونے کا حکم دیا۔ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہ کی تو سختی کرنا پڑے گی۔ہم سمجھتے تھے کہ شاید یہ لوگ جو اس قدر جوش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔فائرنگ یا لاٹھی چارج کے بغیر منتشر نہ ہوں گے لیکن ہماری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھا۔کہ جنگ کے بلند بانگ دعوی کرنے والے شجاعت وبسالت کے یہ مدعی یہ حکم سنتے ہی دُم دبا کر ایسے بھاگے کہ مُڑ کر پیچھے دیکھنے کی جرات بھی نہ ہوئی۔اور پانچ منٹ کیا دو تین منٹ کے بعد ہی کامل امن و سکون ہو گیا۔۔۔۔اس کے بعد میرزا بشیر الدین محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیری کمیٹی نے ہزاروں لوگوں کے مجمع میں ایسی معرکۃ الآراء تقریر فرمائی۔جس نے ہر دردمند دل کو متاثر کیا۔اور لوگ اس قدر لطف اندوز ہوئے کہ اپنی ساری تکلیف بھول گئے یہ تقریر ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔جس میں فرد واحد بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا یہ بلند پایہ تقریر اور شورہ پشتوں کے فساد کا پس منظر و پیش منظر اگلے دن کے اخبارات میں شائع ہوئے تو اہل درد کو اس بابرکت اجلاس میں شرکت سے محرومی کا بے حد قلق ہوا۔سب سے زیادہ محرومی اس بات کی تھی کہ وہ اس با اعتماد لیڈر کی تقریر سننے سے محروم رہے۔جو برستے پتھروں میں بھی آخر دم تک امن و قتل کی تلقین کرتارہا۔آپ نے اس تقریر میں فرمایا:۔وو یہ پھر جن لوگوں نے مارے ہیں۔انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست نے علاقہ پر رعایا کو قبضہ دے دیا ہے 77