کشمیر کی کہانی — Page 36
۔ہمارے اس اقدام کی دل سے تعریف بھی کی جو ہم نے اپنے مذہبی معتقدات کے تحفظ کے لئے قانون کے اندر رہتے ہوئے کیا ہمیں یقین دلایا کہ ہم انشاء اللہ بہت جلد عروس آزادی سے ہم کنار ہوں گے۔حکومت انگریزی پر یہ بات واضح کی گئی۔کہ نماز عید کے ساتھ خطبہ پڑھنا ایک مذہبی فریضہ ہے جس میں دخل اندازی اور اس پر پابندی عائد کرنا نہایت ہی شرمناک فعل ہے۔اگر خطبہ میں کوئی ایسی بات بیان کی جاتی۔جو حکومت کے خلاف ہوتی تو خطیب پر با قاعدہ مقدمہ چلا یا جا سکتا تھا۔مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ایسے علاقہ میں جہاں بات بات پر زبان کٹتی ہو کسی خطیب کو یہ جرأت ہو کیوںکر سکتی ہے۔کہ وہ حکومت کے خلاف اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نکالے۔پس اس بات کا تو احتمال بھی نہیں ہو سکتا کہ خطیب نے حکومت کے خلاف کوئی برافروختہ کرنے والی ) ناروا بات کہی ہوگی۔ایسی صورت میں آریہ ڈپٹی انسپکٹر کا خطبہ روک دینا خواہ مخواہ مسلمانوں کی دل آزاری اور اپنی قوت کا بے جامظاہرہ ہے۔اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ریاست کے اعلیٰ حکام اس فعل کو قطعاً پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔انہیں اول تو خود نوٹس لینا چاہیے۔ورنہ مسلمانوں کو اجازت دے دینی چاہیے کہ مروجہ قانون کے ماتحت انصاف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہندو پریس کے ایک حصہ نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی کہ یہ واقعہ معمولی نوعیت کا تھا جسے مسلمان بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔یہاں تک کہ ایک کثیر الاشاعت اخبار نے لکھا کہ بات تو صرف اتنی ہوئی تھی کہ سب انسپکٹر نے ایک معز بشخص سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ یہ لیکچر ہے یا عید کے متعلق وعظ۔اتنی سی بات پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور غیر مناسب الفاظ سے سب انسپکٹر کی تواضع کی اس کے بعد سب انسپکٹر چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔1 ( پرتاب ۱۳ مئی ۳۱ ء ) 40