کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 35 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 35

اس محترم بزرگ کے (جنہوں نے تحریک آزادی میں بہت بڑا کردار ادا کیا) ہمنواؤں نے اُس زمانہ میں اخبارات میں بڑے زور دار مضامین لکھے۔جن میں بصراحت واضح کیا کہ وہ مظالم اور سختیاں جو کشمیر کے برسر اقتدارلوگ کشمیریوں (خصوصاً مسلمانوں ) پر کرتے چلے آرہے ہیں۔نا قابل بیان اور حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ظاہر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ریاستی باشندوں خصوصاً مسلمانوں کو اس قدر ذلت اور ادبار کے گڑھے میں گرا رکھا ہے کہ اس سے ان کا نکلنا ممکن نہیں۔لیکن یہ حد سے بڑھی ہوئی سختیاں ہی ان کو خواب غفلت سے بیدار کر رہی ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جب ریاستی حکمرانوں کو معلوم ہو جائے گا کہ رعایا کے اتنے بڑے حصہ کو اس کے حقوق سے محروم رکھنا اور مظالم کا تختہ مشق بنائے رکھنا رنگ لائے بغیر نہیں رہ سکے گا مگر اُس وقت اس حقیقت سے باخبر ہونا شاید اتنا فائدہ مند نہ ہو سکے جتنا کہ اب ہو سکتا ہے۔احتجاجی سرگرمیاں جموں میں خطبہ عید پڑھنے میں جو رکاوٹ پیدا کی گئی تھی اس پر مسلمانان جموں نے قابل تعریف آئین پسندانہ رویہ اختیار کیا۔اور اس صریح نا انصافی اور مذہب میں دخل اندازی کے خلاف مردانہ وار آواز اُٹھائی اور ہندوستان کے چار پانچ بڑے لیڈروں کو (جن میں ایک وہ قابل احترام بزرگ تھے ) رجسٹری خطوط کے ذریعہ باخبر کیا اور امداد کے طالب ہوئے۔کشمیر کے ابتدائی لیڈروں میں سے مولانا مفتی ضیاء الدین صاحب ضیاء نے ( جنہوں نے کئی بار قوم کی خاطر قید و بند اور جلا وطنی کی صعوبتیں جھیلیں ) راقم الحروف کو لکھا کہ اس بزرگ ہستی نے جہاں ہماری معروضات ملتے ہی ہماری زرکثیر سے مالی اعانت فرمائی 39 39