کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 37 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 37

لیکن اُس صاحب دل بزرگ نے اس من گھڑت واقع کی نہایت ہی پر زور تردید شائع کی اور ایسے نمبر ہن انداز میں کی کہ جس سے ان ہندوؤں کا سارا پراپیگنڈہ کا پول کھل کر رہ گیا۔اور ریاستی حکام بھی پریشان ہونے شروع ہوئے۔چنانچہ اندرونِ ریاست اور بیرونِ ریاست اس احتجاج کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ آریہ پولیس افسر کو انسپکٹر جنرل پولیس کے حکم سے معطل کر کے محکمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔تو ہین کلام پاک کے واقعہ نے مہاراجہ کے احساس کو بھی ٹھوکا دیا۔چنانچہ وہ بھی فوری اقدام کے لئے مجبور ہوا۔سری نگر سے وزیر متعلقہ مسٹر ویکفیلڈ تحقیقات کی غرض سے جموں آئے جملہ انجمن ہائے اسلامی کے پریذیڈنٹ و سیکرٹری صاحبان کو ملاقات کے لئے بلایا۔اور اپنی تکالیف بیان کرنے کے لئے کہا گیا۔مسلمانوں نے زبانی اپنے مطالبات پیش کئے۔جس پر وزیر موصوف نے کہا کہ میں مذہبی معاملات کا تو اسی جگہ فیصلہ کرتا ہوں۔مگر ملکی معاملات کے لئے آپ میرے ساتھ کشمیر چلیں۔میں مہاراج بہادر کے سامنے آپ کے ساتھ ہی آپ کے مطالبات بھی پیش کروں گا۔سماعت اور انداز سماعت دوسرے روز قرآن مجید کی توہین کا معاملہ پیش ہوا۔مسٹر ویکفیلڈ نے مسلمانوں کی طرف سے دو نمائندے (ایم یعقوب علی صاحب مرحوم اور سید الطاف علی شاہ صاحب) کو اپنے ساتھ رکھا۔دو دن کی تحقیق کے بعد یہ تینوں صاحبان جس نتیجے پر پہنچے وہ یہ تھا مسٹر ویکفیلڈ (نمائندہ حکومت کشمیر ) وو قرآن کریم کی تو ہین میں تسلیم کرتا ہوں۔لیکن میرے خیال میں یہ اتفاقی امر تھا۔میں صدقِ دل سے اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں۔۔66۔۔۔۔۔۔41