کشمیر کی کہانی — Page 321
آئے تو یہ ڈرافت اُن کے پاس تھا۔اس وقت کوئی بھی تو سامنے نہیں آیا جس نے ڈرافٹ کے مصنف ہونے کا دعوی کیا ہو۔مسٹر غلام نبی گلکار جو سری نگر میں نومبر 1947 ء میں گرفتار ہوئے پاکستان میں دوسروں کے ساتھ 1949ء میں ہندوستانی قیدیوں کے بدلہ میں ( رہا ہو کر ) وارد ہوئے اور یہاں پہنچتے ہی فوراً انہوں نے اپنے (عارضی حکومت کے پہلے صدر ہونے کا دعوی کیا۔“ (Kashmiris Fight for freedom PP 1287 by Saraf) (د) ترجمہ حکومت آزاد کشمیر کی بنیاد 4 اکتو بر کو پڑی تھی اور اُس کے پہلے صدر خواجہ غلام نبی گلکار تھے اور سردار محمد ابراہیم خاں اس حکومت کے پرائم منسٹر تھے جب خواجہ غلام نبی گل کار مظفر آباد سے اندرون کشمیر گئے تو اُس کے بعد 24 /اکتوبر 1947ء کو امام حکومت سردار محمد ابراہیم کے ہاتھ میں آگئی۔“ (Two Nations & Kashmir 1956 Edition PP۔81) خواجہ غلام نبی گلکار کو ریڈیو پاکستان لاہور سے ہونے والے بار بار کے اعلانات نیز سول اینڈ ملٹری گزٹ اور ہفتہ وار لائٹ میں عارضی آزاد کشمیر حکومت سے متعلقہ اعلان کی نشر و اشاعت سے اطمینان ہو گیا کہ ابتدائی مرحلہ طے ہو گیا ہے تو وہ پروگرام کے دوسرے مفوضہ حصے کی انجام دہی کے لئے سرینگر چلے گئے۔ایک اور شہادت چیف جسٹس محمد یوسف صراف بیان فرماتے ہیں کہ وہ شروع ( ماہ) اکتوبر میں راولپنڈی پہنچے۔چند دن بعد اُن سے سردار محمد ابراہیم خاں نے لاہور جانے کے لئے کہا تا کہ وہاں تحریک کے لئے نشر واشاعت کا دفتر قائم کیا جا سکے۔لکھتے ہیں: ( ترجمہ ) انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کے (امام) میرزا بشیر 325