کشمیر کی کہانی — Page 322
الدین محمود احمد صاحب سے پہلے ہی بات کر لی ہوئی ہے اور مجھے دفتر قائم کرنے کے لئے ان کی اعانت حاصل کرنے کے لئے ) اُن کے پاس جانا ہے۔“ (Kashmiries Struggle for Freedom Page 1285 by Saraf) آگے لکھتے ہیں: لاہور پہنچ کر میں آپ (حضرت مرزا صاحب) کی رہائش واقع رتن باغ پہنچا اور اُن سے اُن ہدایات کا ذکر کیا جو مجھے دی گئی تھیں۔اس گفتگو میں مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ اُن کا اس تمام کارروائی اور عمل میں بڑا گہرا تعلق ہے۔اور حصول آزادی کے مقصد کے لئے وہ مقدور بھر کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے کسی کو مقررفرمایا کہ میرے لئے میکلوڈ روڈ پر بروسر ہوٹل کے قریب دفتر کے لئے انتظام کیا جائے اور یوں 24 گھنٹوں میں دفتر تیار ہو گیا۔اور اُس کا نام مسلم کانفرنس پبلسٹی بیورو رکھا گیا۔“ (Kashmiries Struggle for Freedom Page 1285 by Saraf) قانون اور آئین کی بات تاریخ حریت اقوام وملل سے نابلد کوئی معترض یہ دریافت کر سکتا ہے کہ کیا آزاد جموں کشمیر حکومت کا قیام۔اس کا اعلان اور اُس حکومت کے صدر اور وزراء کا تقر ر غیر قانونی تو نہ تھا۔آخر یہ سب کچھ کس ضابطہ اور آئین کے تحت ہوا؟ ایسے سوال کا سب سے پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہاں یہ سب کچھ اُس آفاقی آئین کے تحت عمل میں آیا تھا۔اقوام متحدہ کے چارٹر تک میں تسلیم کیا گیا ہے اور جس کی رو سے جبر وغصب 326