کشمیر کی کہانی — Page 3
باسمه سبحانه پیش رس جس کہانی کے اوراق اس وقت میرے سامنے بکھرے ہوئے ہیں وہ لذت آفریں کی بجائے دردانگیز۔اور دلربا سے کہیں زیادہ دل دوز و دل سوز ہے۔یہ ستم ظریفی بھی کس قدر سوہان روح ہے۔کہ جس گل پوش وادی کا ذکر کرتے وقت اس کے نام سے پہلے جنت نظیر کا اضافہ کرنے کے بعد بھی اُس کے جمالیاتی تعارف کا حق ادا نہیں ہوتا اُسی وادی کے باشندوں کا ماضی اور حال دونوں اس قدر کرب آفریں ہیں کہ انہیں مظلوم و مقہور کہہ کر بھی اُن کی بے بسی و کم پرسی کی صحیح کیفیت بیان نہیں ہو پاتی بلکہ اگر میں یہ بھی کہہ دوں تو خلاف واقعہ اور نامناسب نہ ہوگا کہ قیام پاکستان اور ریاست ( جموں وکشمیر ) کے ایک حصہ پر بھارت کے بالجبر قبضے کے بعد وادی کشمیر کے جور رہنما یا سیاسی کارکن پاکستان آئے ان میں سے بعض نے اس سلسلہ میں جو کچھ لکھایا کہا ان تحریروں یا تقریروں نے بھی نہ اُس بے کسی کی صحیح تصویر کھینچی ہے۔جس کے خونی شکنجے میں مسلمانان کشمیر صدیوں سے جکڑے چلے آرہے ہیں اور نہ اُس بر بریت و بہیمیت ہی کا اصل خاکہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے جس کا وہ ایک زمانے سے نشانہ بنے ہوئے ہیں۔شاید اس لیے کہ ان تمام کتب اور سوانحی خاکوں میں لکھنے والوں نے مسئلہ زیر بحث سے کہیں زیادہ اپنے آپ کو پیش نظر رکھا ہے اور بعض نے تو خودستائی کی اس مہم میں اس بات سے بھی گریز نہیں کیا کہ اپنے آپ کو سب سے نمایاں ثابت کرنے کے لیے اپنے 7