کشمیر کی کہانی — Page 295
والیان ریاست کو اختیار برطانوی ہند کی تقسیم تو ریڈ کلف کے سپرد تھی لیکن ریاستوں کے لئے یہ تین صورتیں رکھی گئی تھیں کہ آزادی کے بعد والیان ریاست کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا کہ وہ چاہیں تو اڈل۔پاکستان سے الحاق کریں۔دوم۔ہندوستان سے الحاق کریں۔یا سوم۔اگر چاہیں تو دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی الحاق نہ کریں اور آزا در ہیں۔گویا ملک کی آزادی کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی ساری کی ساری ریاستیں خود بخود آزاد قرار پاتی تھیں۔یکساں کیس جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے حیدر آباد دکن اور کشمیر کی ریاستوں کا کیس یکساں نوعیت کا تھا۔شاید اسی لئے یہ دونوں ریاستیں آخری فیصلہ کرنے میں متنذ بذب تھیں۔یہ صورت حال اس امر کی متقاضی تھی کہ حکومت پاکستان بہت چوکس ہو کر اپنے حقوق منوائے چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد نے بر وقت یہ انتباہ فرمایا کہ اس وقت یہ دونوں ریاستیں محل نزاع بنی ہوئی ہیں حیدرآباد بھی پوری آزادی کا مطالبہ کرتا ہے اور کشمیر بھی پوری آزادی کے ارادے ظاہر کر چکا ہے۔بعد کے حالات نے دونوں ریاستوں کے ارادوں میں تذبذب پیدا کر دیا ہے۔حیدر آباد اور کشمیر دونوں محسوس کر رہے ہیں کہ اقتصادی دباؤ سے ان دونوں حکومتوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔اس لئے لازمی طور پر ان کو کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ہندوستان یا پاکستان سے کرنا پڑے گا کشمیر کی سرحدیں چونکہ دونوں ملکوں سے ملتی ہیں۔( ہندوستان سے کم اور پاکستان 299