کشمیر کی کہانی — Page 294
باب دوم ریاست جموں وکشمیر اور دیگر ہندوستانی ریاستیں مشرقی پنجاب کا (اور خاص کر مغربی پنجاب کے وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ) پاکستان سے نکل جانا اس قدر مہلک اور نقصان رساں نہیں ہے جس قدر یہ بات کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق ہو جائے اور پاکستان منہ تکتارہ جائے۔“ (روز نامہ الفضل 23 /اکتوبر 1947ء ) تقسیم ہند کے وقت برصغیر میں ساڑھے پانچ سو سے زائد بڑی چھوٹی ریاستیں موجود تھیں ان میں سب سے بڑی ریاست حیدر آباد دکن تھی۔جس کی آبادی پونے دو کروڑ اور سالانہ آمدنی پچھپیس کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔آبادی میں اکثریت ہندوؤں کی تھی۔گو مسلمان بھی پندرہ فیصد تھے۔جن میں بڑے بڑے جاگیردار اور ذی اثر و ذی وجاہت تجار موجود تھے اور ریاست کا والی مسلمان تھا۔اس کے مقابل کشمیر کی ریاست کا رقبہ تو ریاست حیدرآباد سے زیادہ تھا۔لیکن آبادی صرف چالیس لاکھ تھی۔جس میں سے زائد 77 فیصد آبادی مسلمان تھی۔مگر والٹی ریاست غیر مسلم تھا۔آبادی کے اعتبار سے ہندوستان کی ریاستوں میں اس کا تیسرا نمبر تھا۔کیونکہ حیدر آباد کے ریاست میسور کی آبادی تمام دوسری ریاستوں سے زیادہ تھی۔298