کشمیر کی کہانی — Page 296
سے زیادہ) اس لئے بوجہ اس کے کہ راجہ ہندو ہے اس کی کوشش یہ ہے کہ اگر کسی حکومت سے ملنا ہی پڑے تو وہ ہندوستان سے ملے۔“ شیخ جی کا نظریہ ( بحوالہ روزنامہ الفضل مورخہ 19 اکتوبر 1947ء) لیکن کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ ان دنوں اس کوشش میں تھے کہ کشمیر کے الحاق کا سوال اُس وقت اٹھایا ہی نہ جائے بلکہ تمام تر توجہ کشمیر کے حق خود اختیاری حاصل ہونے کے سوال پر مرتکز کی جائے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کو یہ نقطہ نظر اور یہ مصلحت آمیز سوچ کشمیر کے مستقبل کے لئے خطرناک نظر آئی چنانچہ آپ نے شیخ محمدعبداللہ۔مسلمانان کشمیر اور حکومت پاکستان کو واضح الفاظ میں انتباہ کیا اور فرمایا کہ: اس وقت جب انڈین ڈومینیئن نہایت تیز رفتاری سے ہندوستان کی بڑی بڑی ریاستوں کو اپنے اندر مدغم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔اور ریاست حیدر آباد کو ہی مجبور نہیں کر رہی بلکہ خود کشمیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے بلکہ بعض آثار سے مثلاً ہندوستانی علاقہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے راستوں اور دریاؤں کے پل تعمیر کرانا وغیرہ سے صاف نظر آتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر کے ارادے کیا ہیں۔تو ایسے حالات میں کہ اس معاملہ کو کھٹائی میں ڈال دینا نہ صرف کشمیریوں کے لئے بلکہ پاکستان کے لئے بھی نہایت خطرناک ہے۔“ ( بحوالہ روزنامه الفضل 19 اکتوبر 1947ء) 300