کشمیر کی کہانی — Page 28
بزدلی کا الزام مسٹر ویکفیلڈ مہاراجہ کے خاص دوستوں میں سے تھے اس لئے عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ مہاراجہ ان کی بات رد نہیں کر سکتے۔۔۔خلیفہ عبد الرحیم مسٹر ویکفیلڈ کے پرسنل اسٹنٹ تھے وہ انہیں مسلمانوں کی حالت زار سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاکید کرتے رہتے تھے کہ مسلمانوں کو آپ ان کے جائز حقوق دلائیں اس وقت تک فوج میں ڈوگروں کے علاوہ راجپوت، نیپال کے گورکھے اور پنجاب کے سکھ تو بھرتی ہو سکتے تھے لیکن کسی کشمیری مسلمان کو بھرتی کرنے کی کلیۂ ممانعت تھی۔مسٹر ویکفیلڈ جن کے ماتحت فوج کا محکمہ بھی تھا کا اپنا بیان ہے کہ:۔وو میں نے بہت کوشش کی کہ مہاراجہ کشمیری مسلمانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں۔مہاراجہ نے مجھے جواب دیا کہ ایک دفعہ میرے دادا مہاراجہ رنبیر سنگھ نے کشمیریوں کی ایک پوری رجمنٹ تیار کی تھی۔چھ ماہ تک اُن کی باوردی پر یڈ بھی سرینگر میں ہوتی رہی۔اس کے بعد ساری رجمنٹ کو جموں کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا۔تو فوج کے افسران کا ایک وفد دربار میں مہاراجہ کے حضور پیش ہوا اور عرض کی حضور ہماری روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔لیکن ایک کمی رہ گئی ہے۔66 راستہ میں ہماری حفاظت کے لئے پولیس کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ری کولیکشنز ” از جی۔ای۔ویکفیلڈ۔بحوالہ سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر از پریم ناتھ بزاز صفحه ۱۴۲ ) یه خود ساختہ تحقیر آمیز قصہ سُنا کر مہاراجہ ہری سنگھ نے ویکفیلڈ کو تو خاموش کرا دیا۔لیکن جب یہی ویکفیلڈ ملازمت سے علیحدہ ہوئے۔اور انہوں نے اپنی یادداشتیں شائع کیں۔تو 32 32