کشمیر کی کہانی — Page 27
۱۹۲۹ء کے اوائل میں ملازمت سے علیحدگی کے بعد سر بینرجی کا وہ معرکۃ الآراء مضمون اخبارات میں شائع ہوا جس میں مظلومین کشمیر کا صحیح نقشہ دکھایا گیا تھا اور ہر دعویٰ کی دلیل صحیح اعداد و شمار کے رنگ میں دی گئی تھی۔ریاستی ہائی کمان کو شبہ تھا کہ یہ اعداد و شمار ( جن کا اکٹھا کرنا عرق ریزی کا کام تھا۔خلیفہ عبدالرحیم جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ) کی خفیہ کوششوں کا نتیجہ ہے لیکن ثبوت کوئی نہ تھا پھر یہ اعداد و شمار اُس وزیر نے شائع کروائے تھے۔جسے ملازمت کے دوران میں اُن کے حاصل کرنے کا کلی اختیار تھا۔لیکن بینر جی کے بعد خلیفہ عبدالرحیم بھی ہائی کمان کی نگاہوں میں مشکوک و مشتبہ ضرور ہو گئے۔نعرہ حق بینر جی کے سلسلہ میں ایک بات کا بیان کردینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب اخبارات میں بیان شائع ہوا تو ریاستی باشندوں اور ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک دم جوش اور ہیجان پیدا ہو گیا۔ریاست میں بھی ہر جگہ اس بیان کا چرچا ہورہا تھا۔ہندو بڑی ہوشیار قوم ہے اُس نے اس کے اثرات کے ازالہ کے لئے فوراً ایک منصوبہ تیار کیا جس کی پہلی شق یہ تھی کہ ریاست کے ایک مسلمان وزیر اپنے مکان پر جموں کے سرکردہ مسلمانوں کو جمع کریں اور انہیں ترغیب دلائیں کہ وہ اس کی تردید میں ایک بیان دیں جس میں یہ لکھا جائے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان ہر طرح سکھ اور چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں اور یہ بھی کہ بینرجی کا بیان حقائق کے خلاف ہے۔لیکن ایم یعقوب علی نے وزیر صاحب کو کوٹھی سے باہر آتے ہی بڑے دھڑلے سے نعرہ حق بلند کیا اور کہا کہ وو ہم جھوٹ کی تائید اور حق کی مخالفت کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔۔۔66 اس پر کمزور طبائع بھی اُن کا ساتھ دیے بغیر نہ رہ سکیں اور ہندوؤں کی یہ سکیم فیل ہوگئی۔31