کشمیر کی کہانی — Page 29
وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ:۔۳ء میں برپا ہونے والے فسادات میں جتنے بھی کشمیری مارے گئے۔ان سب کے گولیاں سینوں میں لگی تھیں“ ”ری کولیکشنز ” از جی۔ای۔ویکفیلڈ۔بحوالہ ”سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر از پریم ناتھ بزاز صفحه۱۴۲) گویا مہاراجہ نے جو افسانہ تراشا تھا۔وہ سب جھوٹ پر مبنی تھا۔کشمیری ہرگز بزدل نہ تھے اور اس بات کی تصدیق انہوں نے اپنے عمل سے کر دی تھی۔۲۹ء کی گرمیوں جب یہی محترم بزرگ (جن کا ذکر خیر اوپر آچکا ہے ) کشمیر تشریف لائے ہوئے تھے۔چند ذی عزت کشمیریوں کی طرف سے مہاراجہ کی خدمت میں ایک عرضداشت پیش کی گئی۔جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ: ریاستی ملازمتوں میں مسلمانوں کے غیر تسلی بخش تناسب کا ازالہ کیا جائے۔اس کے نتیجہ میں نجی طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملازمتوں میں مسلمانوں کے لئے پچاس فیصد آسامیاں ریزرو کی جائیں گی۔لیکن بعد میں اُسے پورا نہ کیا گیا۔جس سے مسلمانوں کے دلوں میں ڈوگرہ حکومت کے لئے بداعتمادی اور بڑھ گئی۔حوصلہ شکن جواب ریڈنگ روم پارٹی کا ذکر اوپر آچکا ہے۔شیخ محمد عبد اللہ اس کے صدر اور خواجہ غلام نبی گل کار اس کے سیکرٹری تھے۔مہاراجہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شمولیت کی غرض سے انگلستان گئے ہوئے تھے۔ان کی غیر حاضری میں ریاستی کا بینہ کام کر رہی تھی۔ریڈنگ روم پارٹی نے دو آدمیوں کا وفد پیش کئے جانے کی اجازت مانگی جو دے دی گئی۔کابینہ نے اس چھوٹے سے وفد کی گزارشات سننے کے بعد اس بات سے بالکل انکار کر دیا کہ مسلمانوں کے لئے آسامیوں 33