کشمیر کی کہانی — Page 24
کی بیٹھک میں تین چار نو جوان آنے شروع ہوئے پھر پندرہ میں ہوئے۔پھر دوسرا کمرہ بھی استعمال ہونے لگا۔آخر مکان کے سامنے کی ساری سڑک بھی مردوں سے بھر جانے لگی۔یہ ہما ہمی اور سرگرمی ہندو راجہ کی ناراضگی کا باعث بنی۔چنانچہ ٹریفک کے رکنے کا بہانہ کر کے اس سلسلہ کو حکماً بند کر دیا گیا۔ریڈنگ روم پارٹی مگر خواجہ غلام نبی گل کار کب نچلے بیٹھنے والے تھے۔انہوں نے فوراً فتح کدل میں ایک ریڈنگ روم کھول ڈالا۔اس کے با قاعدہ نمبر بنائے اور ریڈنگ روم پارٹی کے نام سے ایک جماعت قائم کر لی۔جو بظاہر وہاں کتب کے مطالعہ کے لئے جمع ہوتے تھے۔لیکن ان کا اصل کام مسلمانوں کو منظم کرنا تھا۔نوجوانوں کے لئے تعلیم کے مواقع مہیا کرنا۔اور انہیں غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے تیار کرنا تھا۔جب شیخ محمد عبد اللہ شیر کشمیر ) علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہو کر آئے۔تو وہ اس پارٹی کے صدر اور خواجہ غلام نبی گلکار جنرل سکرٹری چنے گئے۔اور کام کی رفتار خاصی تیز ہوگئی۔ینگ میز مسلم ایسوسی ایشن چند سال پہلے جموں میں باہمت لوگوں نے ” ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن“ کے نام سے ایک جماعت بھی قائم کر لی تھی۔جس کے سالانہ جلسے منعقد ہوتے تھے۔باہر سے علماء کو بلوا کر تقاریر کروائی جاتی تھیں۔اس بزرگ کے نمائندے بھی ایسوسی ایشن کی درخواست پر تقاریر کرنے کے لیے جاتے جو مسلمانوں کے دلوں کو گرماتے اور جد و جہد آزادی کو اور تیز کر آتے تھے۔ایم یعقوب علی۔شیخ غلام قادر۔آغا غلام حیدر۔چودھری غلام عباس۔سردار گوہر رحمن اور میاں محمد ابراہیم وغیر ہم سب اس انجمن سے متعلق رہے ہیں۔جو علمائے ہند وقتاً فوقتاً اس 28