کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 25 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 25

ایسوسی ایشن کے جلسوں میں ولولہ انگیز تقاریر فرماتے رہے۔اُن میں ڈاکٹر مفتی محمد صادق۔خواجہ حسن نظامی۔مولانا محمد علی ایم اے۔مولانا محمد یعقوب۔علامہ حافظ روشن علی۔مولا نا عبد الرحیم نیر ایسے جید علماء کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان بھاری اکثریت میں تھے۔یعنی کشمیر کے صوبہ میں تو پچانوے فی صد تھے اور جموں وغیرہ کے صوبہ کو ملا کر بھی اُن کی آبادی ستر فیصد سے زائد تھی لیکن ساری ریاست پر ڈوگرہ خاندان کا راج تھا۔فوج ساری کی ساری ڈوگرہ جوانوں پر مشتمل تھی۔سرکاری ملازمتوں پر کشمیری پنڈت چھائے ہوئے تھے۔تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی۔مسلمان صرف غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے لئے تھے۔جموں شہر کے سوا جہاں گنتی کے چند مسلمان خاندان کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار ہوتے تھے۔اس صوبے کے سارے مسلمانوں کی حالت اچھوتوں سے بدتر تھی مسلمانوں کو اس نا گفتہ بہ حالت تک پہنچا دینے کے باوجود جب ریاستی حاکم نے یہ دیکھا کہ غربت و کم پرسی کی یہی آہیں اندر ہی اندر شعلے اگلنے لگی ہیں۔اور جگہ جگہ حصول آزادی کی چنگاریاں سلگنے لگی ہیں تو اُس نے سوچا کیوں نہ ان سارے مسلمانوں کو شدھ کر کے ہندوہی بنالیا جائے۔نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔واضح رہے ساٹھ سال قبل بھی کشمیر کے ایک متعصب راجے نے یہی نسخہ مسلمانوں کی جد و جہد تربیت سے منتقلاً نجات پانے کا آزمایا تھا۔چنانچہ بیرون ریاست کے مہاشے اور بھکشو درآمد کئے گئے۔اور کام شروع ہو گیا۔اسلام پر جبر و تعدی کا یہ وار ہوتا دیکھ کر کشمیری مسلمان مضطرب ہو گیا کشمیر میں مسلمان مبلغین بجھوانے کے لیے پنجاب کے مسلمانوں کی خدمت میں درخواستیں کی گئیں۔ایک عرضداشت اُس محترم و مکرم بزرگ کی خدمت میں بھی ارسال کی گئی۔جس سے اب ریاست کا 29 29