کشمیر کی کہانی — Page 23
ریاست پر چھائے ہوئے تھے۔تجارت پر تو کلیہ ہندوؤں ہی کا قبضہ تھا۔پر لیس اور پلیٹ فارم کی بھی کوئی آزادی نہ تھی۔انجمنیں بنانے کی ممانعت تھی۔مسلمانوں کے اوقاف پر ریاست کا قبضہ تھا۔بعض مساجد گوداموں کے طور پر استعمال ہورہی تھیں۔یہ ساری باتیں بیز جی اور مسٹر ویکفیلڈ کے نوٹس میں لائی گئیں۔خواجہ غلام نبی گلکار ۲۹ ء کے قیام کشمیر کے دوران میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنے اس ہمدرد و غم گسار سے ملاقات کے لئے آتے رہے۔سرینگر میں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیدار ہو چکے تھے۔انہی میں ایک باہمت جوان ”خواجہ غلام نبی گل کار تھے۔جنہوں نے یہ عہد کیا خواہ کچھ بھی ہو میں نو جوانوں کو منظم کر کے ہی دم لوں گا۔۔پھر ہم سب مل کر مسلم نو جوانوں کو کالجوں میں داخلہ کے لئے سہولتیں بہم پہنچائیں گے تا وقتے کہ قوم اپنی حالت کو بدلنے کے قابل ہو سکے۔“ درس القرآن کا اجراء سری نگر میں دو پرانے وکیل مسلمان بھی تھے۔ان میں سے ایک مولوی محمد عبد اللہ تھے اُس بزرگ کے ساتھ ان وکیل صاحب کے تعلقات بہت قدیم سے چلے آرہے تھے۔انہوں نے بھی ان کا اثر قبول کیا اور قرآن مجید کے درس کا سلسلہ شروع کر دیا۔جس میں شامل ہونے والوں کو وہ تمام باتوں کی تلقین کرتے جنہیں فروغ دینے کے لئے اس بزرگ نے ہمیشہ زور دیا تھا۔درس میں لوگوں کی حاضری روز بروز بڑھتی چلی گئی۔پہلے وکیل صاحب 27