کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 22 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 22

بیداری کی کوششیں بے شک جاری رکھیں لیکن ایسی اکساہٹوں سے بازرہیں جن سے کسی قسم کی شورش پیدا ہو سکے۔آئی۔جی پولیس نے ہر قسم کی ناجائز تکلیف کے ازالہ کا وعدہ بھی کیا۔اس بزرگ شخصیت کی طرف سے جہاں مسلمانانِ کشمیر کو یہ تلقین کی جارہی تھی کہ وہ تعلیم کی طرف توجہ کریں۔وہاں انہیں یہ بھی تحریک کی جاتی تھی کہ وہ ریاست کی ملازمتوں میں زیادہ سے زیادہ آنے کی کوشش کریں تاکہ اپنی قوم کے افراد کی خدمت کر سکیں۔اس زمانہ میں ریاست کی کلیدی آسامیوں پر مسلمان خال خال ہی متعین تھے۔اور اُن میں بھی صرف تین چار ہی ایسے تھے جو اخلاقی جرات رکھتے تھے۔حکومت کے دوسرے تمام بڑے عہدے ڈوگروں اور کشمیری پنڈتوں کے قبضہ میں تھے۔خلیفہ عبدالرحیم کی خدمات خلیفہ عبد الرحیم ( جو بعد میں حکومت جموں وکشمیر کے ہوم سیکرٹری بنے ) انہی چند مسلمان ریاستی افسروں میں سے ایک تھے۔جن کی قومی خدمات کو مسلمانان جموں وکشمیر کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب کہ ایلین بیز جی اور مسٹر ویکفیلڈ ریاست کے وزراء میں شامل تھے۔اور مہاراجہ پر چھائے ہوئے تھے۔خلیفہ عبدالرحیم جو مسلمانوں کی حالت زار سے بخوبی واقف تھے۔اپنی قابلیت ، محنت اور دیانت داری کی وجہ سے اپنے بالا افسران یعنی وزراء کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام پیدا کر چکے تھے۔انہوں نے ان وزراء کے سامنے مردم شماری کے اعداد و شمار رکھے۔اور اس کے ساتھ ہی ریاستی ملازمتوں میں ان کے تناسب ( کا گوشوارہ) بھی رکھا۔جو آٹے میں نمک کی حیثیت بھی نہ رکھتا تھا۔ہند وساری 26