کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 21 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 21

بات نہ کرتے تھے۔اس لیے اُن پر ہاتھ ڈالنا مشکل تھا۔بالآخر بہت سوچ بچار کے بعد پولیس نے اپنا آخری ( تیر بہدف نسخہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔اور انہیں زمرہ بدمعاشاں میں شامل کر کے اُن کی تعمیری سرگرمیوں کو غیر مؤثر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔تیسرا سفر کشمیرا بھی اُمید و بیم کے اس دور میں سے گزر رہا تھا کہ ۲۹ء میں وہی بزرگ ( جن کا ذکر اس ساری مہم کی جان ہے ) تیسری بار کشمیر تشریف لے گئے۔انہیں جہاں اس سفر میں یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ اب کشمیری مسلمانوں میں عام بیداری پیدا ہو چکی ہے اور ایک لمبے عرصے سے نشانہ جو روستم رہنے کے باعث خودداری کی رُوح کھو بیٹھنے والے کشمیری زمینداروں میں از سر نو احساس خودی پیدا ہو چلا ہے۔یہ جان کر انہیں انتہائی رنج بھی ہوا۔۔۔کہ عبد الرحمن ڈار جو اس جدو جہد کے لیڈر تھے۔ان کو پولیس طرح طرح سے زچ کر رہی ہے۔اوران جیسے معزز فرد کو بھی بد معاشوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوششیں زیرعمل ہیں۔آپ نے فوری طور پر اپنے سکرٹری 1 ( مولانا عبدالرحیم دردایم۔اے) کو ( جن کو بعد میں کشمیریوں کی خدمت کا اللہ تعالیٰ نے خوب خوب ہی موقع دیا ) کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس کے پاس یہ واضح کرنے کے لئے بھجوایا۔کہ عبدالرحمن ڈار ایک نہایت شریف شہری ہیں۔معزز زمین دار اور ا چھے تاجر ہیں۔ان کا خاندان اپنے علاقہ میں ہمیشہ ہی سے معزز خیال کیا جاتا ہے۔اُن کے خلاف یہ خطر ناک تعزیری اقدامات محض اُن کی طرف سے کسانوں کی حمایت پر برہم ہوکر کیے جارہے ہیں۔انسپکٹر جنرل پولیس گفتگو سے مطمئن ہوئے اور کہا کہ وہ اتحاد اور 25 25