کشمیر کی کہانی — Page 20
سے یہ تلقین بھی جاری رہی کہ اپنی ہر قسم کی اصلاحی سرگرمیوں کو قانون کے اندر رکھیں۔کیونکہ ابھی وہ اتنے کمزور اور غیر منظم ہیں کہ ذراسی بات کی آڑ لے کر بھی حکومت انہیں کچل سکتی ہے۔جس کے نتیجہ میں آزادی کی یہ پائدار جد و جہد کئی سال پیچھے جاپڑے گی۔لارڈ ریڈنگ کو درخواست اُس وقت تک کشمیر کے مسلمانوں کی کوئی خاص تنظیم نہ تھی۔۱۹۲۴ ء میں اس سلسلہ میں ایک نہایت ہی جرات مندانہ قدم اُٹھایا گیا۔لارڈ ریڈنگ ہندوستان کے وائسرائے تھے۔وہ سیر و تفریح کے لئے کشمیر گئے۔تو وہاں چند مسلمانوں نے انہیں ایک میموریل پیش کیا جس میں اپنی حالت زار کا نقشہ پیش کرنے کے بعد مطالبہ کیا گیا کہ:۔کسانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے جائیں۔انہیں ملازمتوں میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ دیا جائے۔مسلمانوں کی تعلیم کا بہتر انتظام کیا جائے۔اور بیگار کوکلیۂ ختم کیا جائے۔مہاراجہ نے اس اقدام کو بہت بُرا خیال کیا میموریل پر دستخط کرنے والوں کو سرزنش ہوئی بعض کو تو ریاست بدر کر دیا گیا۔۲۵ ء میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ لا ولد مرا تو اس کا بھتیجا ہری سنگھ حکمران ہوا۔تنظیم و تحریک خواجہ عبد الرحمن ڈار اب تک اپنے علاقہ کے تمام کسانوں کو منظم کر چکے تھے۔تعلیم کا بھی چرچا ہونے لگا تھا۔یہ باتیں حکومت کشمیر کے لیے بہت ناگوار تھیں۔کیونکہ اس بیداری میں غلامی کی زنجیریں کٹ جانے کا راز مضمر تھا۔لیکن عبدالرحمن ڈار چونکہ خلاف قانون کوئی 24