کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 198 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 198

تھے جواشتعال دلانے پر تو قانون شکنی بھی کر لیں۔لیکن ایک سگریٹ کی خاطر معافی مانگ کر گھر واپس لوٹ آئیں۔کور کے ان نوجوانوں کو فاقہ کشی کی مشق کرائی گئی۔کئی دن تک چنے کی تھوڑی سی مقدار پر گزارہ کرنے کی عادت ڈالی گئی۔سردی گرمی اور بارش سے بچنے کے لیے عارضی خیمہ بنالینے کی تربیت بھی دی گئی۔اور یہ سب مہارتیں اور مشقیں ان کی آئندہ زندگی میں کام آئیں۔قومی اور ملی کاموں کے لیے بچے خدام کی ایک جماعت بن گئی۔( راقم الحروف کو بھی یہ ٹریننگ حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جسے اُس نے اپنی ساری زندگی میں مفید پایا۔6-1) وکلاء کی قابل رشک خدمات کشمیر میں کام کرنے والے وکلاء نے جس اخلاص اور قربانی کا نمونہ پیش کیا ہے۔مسلمانوں میں اس کی کوئی اور مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ان میں سے سب کے سب اعلیٰ پایہ کے قانون دان تھے۔اور اپنی کامیاب پریکٹس چھوڑ کر ایک پائی بطور فیس وصول کئے بغیر ) مہینوں سے غریب الوطنی اور بے سروسامانی کی حالت میں نہایت محنت اخلاص اور دیانت سے کام کئے جارہے تھے۔ان مخلصین نے ۳۱ ء کے آخر میں کام شروع کیا تھا۔وسط ۳۳ ء تک ان کے مخلص وجود مظلومین کشمیر کے جس جس طرح کام آئے اس کا ایک اچٹتا سا اندازہ مندرجہ ذیل تفاصیل سے لگ سکتا ہے۔گو کام بعد میں بھی جاری رہا۔جس کے صلہ میں متعد داسیروں کو رہائی نصیب ہوئی۔میر پور میں شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ۔چودھری یوسف خاں (وکیل ) اور چودھری 202