کشمیر کی کہانی — Page 197
وو کشمیر کے بلکتے ہوئے بچوں اور مجروح ومضروب عورتوں کی نظریں پھر سے پنجاب کی طرف لگ رہی ہیں۔کہ اس جانب سے رحمت الہی کی گھٹائیں اُٹھیں گی۔کیا وہ معصوم اور مظلوم نگاہیں ناکام لوٹیں گی ؟ والتميير زكور کشمیر کی جنگ آزادی کے دوران میں اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی تھی کہ مختلف نوعیت کے کاموں کی انجام دہی کے لیے ایک تنظیم والنٹیئر زکور ہو۔نو جوانوں کو جسمانی اور ذہنی تربیت دی جائے۔ان میں اطاعت امیر کا جذبہ پیدا کیا جائے۔وہ کسی کام کے کرنے میں عار نہ محسوس کریں۔تیرا کی گھوڑے کی سواری۔میلوں پیدل چلنا۔اپنے ہاتھ سے اپنا کھانا تیار کر لینا۔(ان سب کاموں کی ) اُن کو مشق کرائی جائے۔کیپٹن مرزا شریف احمد صاحب چنانچہ یہ مشکل کام کیپٹن مرزا شریف احمد صاحب ( جوان فنون کے ماہر تھے ) کے سپرد کیا گیا۔انھوں نے نہایت قلیل عرصہ میں ایک بہت بڑی والنٹیئر زکور قائم کر دی۔ان کی شخصیت میں بڑی جاذبیت تھی۔نوجوان خود بخود اُن کی طرف کھیچے آتے تھے اور سخت محنت کے کام بخوشی سرانجام دیتے تھے۔مولانا ظہورالحسن جنید ہاشمی۔مولوی عبدالاحد محمد شریف امرتسر ی۔چودھری عبدالواحد ( مدیر اعلیٰ اصلاح) اسی طرح اور بیسیوں نوجوان جنھوں نے اُن دنوں کشمیر میں قابل تعریف کام کیا۔اسی کور کے تربیت یافتہ تھے۔اور ایسے والنٹیئر وں میں سے نہ 201