کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 199 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 199

S۔M۔Abdullah, SRINAGAR 22 cit السلام علیکم داشته اند برگاه امامه جناب شرم میان گلاب و مراقبات نہ میری زبان میں کارت ھے۔اورنہ میرا تم میں زور اور نہ میرے پاس ا ا ا اور میں بیعت کر حمام کار دارم که جناب محمد یک باکس اور نظرم قوم کی بہتری کیلئے کیا ھے صرف ڈرانے اویزاں سے ہیں ما ار بلکتا ہے۔میری باجر ابو دی ہے کہ انور علی کریم اکباب کو زیادہ زیادہ طاقت ہے یا کہ آنتوسی بود بے کسوں کیلئے سہارا ہے۔شاید بناب تاجر نے کرائی ہیں۔دین نے جناب دا نظارات گرانا اور آپ دینے میں شاہی سے کام لینا۔ین کانتا ہوں۔وہ یقیناً یہ مربع کتانی ہے۔اگر خدا کو حاضر با نگر میں جناب سیلے ارین میں ہو تا ہوں اور امری کرنا گوران پر ٹی بیوی نے مجھے مجبور کر کیا تھا۔ایک طرف پیوسوتاہ اور اس کی پائی۔ایک طرف پنڈ دن اور سلمانوں کی افسر سناک ختار - حال پریشانی اپنوں سے بیگانگی کانون کی پیاری دوبارہ روزہ ان سب باتوں نے مجھے پیرانیان گور کا تھا۔ار کی شہادت جناب تو پاس سید زین العابد این قالب دے سکتے ہیں۔ان حالات کے ہوتے ہوئے تجھے کامل یقین ہے که جناب مجھے معاف دانا کیے اور بزرگان اور گوری ان صفات کو مدنظر رکھتےمجھے یقین کر لینا چاہئے کہ باب کے تالی بخش جوابی با صرف میری برای نیوان کو جلد از جلد و جمع کردینگا کا مرت بالکل ٹھیک کی ہیں۔جناب در رقاب اور شام اب ویران تمام میں مصروف ہیں۔جو لوگ تو می نام میں مال ہونا چاہتے ہیں۔اور میاں نے انھیں کافی انفرادی ہے۔اناشید در روایت سے موٹر کا ہو ہی میں وصول ہو گیا ہے بت بیش کاتونی بیرونی یا ختم ہوگی۔بجائے نہیں دان کا ممنون برابر این زن م الہی اور برای شمالی سر استور اساسی نا برا وقت دیا سائرز اور گو مرد ان کی پارٹی کام میں حمل ہونا چاہتی تھی۔مگر ناکام رہی الاجات تزی آٹھ ہزار آئے ہیں۔پین کل پر ڈیڑھ ہزار روپیہ خرچہ آیا۔اور پیس کر بجلی وغیرہ کا اچھا انتظام کا مختلف الدرامت سے رضا کار آئے ہوئے تھے۔فرودگاہ کا انتظا بہت اچھا تھا۔اعوض جناب کی دنیا سے کانوان جنایت کیا ہے رہی۔فضول کاموراتی کباب در جالب نے آنحضور کو مسجدی ہوگی۔کیا بھی چال ہے۔بجانب آنے تھے۔رائی اور طرف قدم بوسی عامل کو رنگی - اداری خیال کن چند اورار غلط پر ویکینیڈا کر رہے ہیں۔کم میں کو کشور کمیں ہاتھ کھر میں که نیکی کا کھیل بنا ہوا ہوں۔کبھی کہتے ہیں۔میرا عقیدہ بھی بدل گیا ہے۔گر دنیا و ترکریم بہتر جانتا ہے۔میں کون ہوں اور کیا ہوں۔اسلئے ہمیشہ انکو زمیں ہونا پڑتا ہے۔مجھے امیر ج- لاجناب کی دعائیں بھیشہ برے شامل حال ہونگی۔آج مجھے رہنا بچہ سکھتے ہوئے بھی حاصل رہنا ہے۔کبھی کبھی جیبوں کی وجہ سے بنا ہے گستاخی کا بھر رکھیں ہیں۔اور پھر مکان بی طالب کردن مسیر را برای رضا کا ارشاد گرگان جبوری میں میری شادی کرونگا۔بمباری بی ام و این کتاب اسی کی طرف سے مرا با روان باشم۔جناب نانی کورا 203