کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 194 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 194

ایک غیر معمولی واقعہ ۱۸ /۱ اکتوبر کو رات کے عام اجلاس میں ایک ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔جو تاریخ آزادی کشمیر کا ایک سنہری ورق ہے۔فیصلہ یہ ہوا تھا کہ کانفرنس میں کوئی غیر ریاستی کسی قسم کی تقریر نہیں کرے گا۔اس فیصلہ کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ بعض شر پسندوں عناصر کی یہ خواہش اور کوشش تھی کہ پنجاب کے بعض مسلم لیڈروں کی (جو ریاست کے نمک خوار تھے ) تقاریر کروائی جائیں۔شیخ محمد عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے اس خطرہ کو بھانپ لیا اور ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جس سے ان لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی اور ان کی سکیم نا کام ہو گئی۔۱۸ راکتو بر کی رات کو کانفرنس کا اجلاس عام شروع تھا۔مولا نا عبد الرحیم درد اور راقم الحروف اپنے ہاؤس بوٹ میں ہی بیٹھے (جو پنڈال کے سامنے تھا ) کاروائی سن رہے تھے۔یکدم صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی زندہ باد سید زین العابدین زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعرے بلند ہونے شروع ہو گئے اور پہلی تقریر درمیان ہی میں رک گئی۔میں بھاگا بھا پھر مسجد میں سٹیج پر چلا گیا دیکھا کہ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ نے بڑے جوش سے تقریر شروع کر رکھی ہے۔اور اعلان کر رہے ہیں کہ میں آپ لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں کہ راجہ صاحب پونچھ نے مسلمانوں کے اکثر مطالبات منظور کر لیے ہیں محترم شاہ صاحب نے پونچھ کے ہر حصہ کا دورہ کرنے اور اہالی پونچھ سے مشورہ کے بعد مطالبات مرتب کئے تھے۔اور پچھلے تین دن میں روزانہ چھ چھ گھنٹے راجہ صاحب سے اس بارہ میں تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔جس کے آخر پر راجہ صاحب پونچھ نے ان میں سے اکثر کی منظوری دے دی اور شاہ صاحب ہی کو اختیار دیا کہ راجہ صاحب کے دستخطوں سے جو فرمان جاری ہوا ہے اور جس کی ایک نقل شاہ صاحب کو بحیثیت 198