کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 16 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 16

میں اس برات کا دولہا تھا۔لیکن سرکاری آدمی مجھے بیگار میں پکڑ کر یہاں لے آئے ہیں۔ایک طرف براتی میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔دوسری طرف لڑکی والے پریشان ہوں گے کہ برات ابھی تک کیوں نہیں پہنچی اب سرکاری آدمی جب تک مجھے فارغ نہ کریں میرا ان تک پہنچنا محال ہے۔۔۔۔۔۔شعلہ حریت کیا خبر تھی کہ یہ درد ناک کہانی ایک تیر بن کر اُس دردمند نو جوان کے قلب و جگر کو چھید دے گی اور اُس کے دل و دماغ میں مظلومین کشمیر کے لئے ایسا در داور اُن کے روگ کاٹنے کے لئے ایسی ہمت اور استقامت پیدا کر دے گی کہ یہ میں ہی اُن کی جدو جہد حریت کا حرف آغاز بن جائے گی۔۔۔۔اس کہانی کا ایک ایک لفظ اُس کے قلب وروح کی گہرائیوں میں اُتر گیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں مظلوموں کی رستگاری کے لئے ایسا عزم صمیم بن کر اُبھرا اور خدائے ذوالجلال نے بھی اُس کے اس عزم صمیم کو اپنے فضل وکرم ونصرت سے ایسا نوازا کہ انہی محکوم و مجبور ریاستی عوام کے سینوں میں شعلہ جد و جہد آزادی پوری آب و تاب سے بھڑک اٹھا اور اُس نوجوان کو خدائے ذوالجلال نے اہل کشمیر کی ایسی حقیقی خدمت کی توفیق دی۔۔۔جو برصغیر پاک وہند کے کسی بھی لیڈر کے حصہ میں نہ آسکی۔ٹھیک نو سال بعد اس واقعہ کے ٹھیک نو سال بعد یہی قابل احترام نو جوان ایک دفعہ پھر کشمیر تشریف لے گیا۔لیکن اب وہ ایک عام انسان نہ تھا۔بلکہ (اپنے رب کی طرف سے ) ایک خاص منصب پر فائز ہو چکا تھا۔نسلِ انسانی کے لئے محبت۔درد اور تڑپ اُسے بارگاہ ایزدی سے بطور خاص ودیعت ہوئے تھے۔اس سفر میں اُس کی آنکھوں نے پھر اسی قسم کے روح فرسا حالات دیکھے 20 20