کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 15 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 15

وو لیکن جب یہی ویکفیلڈ ملازمت سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے اپنی یاداشتیں“ شائع کیں۔تو وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ ۳۱ء میں بر پا ہونے والے فسادات میں جتنے بھی کشمیری مارے گئے۔ان سب کے گولیاں سینوں میں لگی تھیں حرف آغاز میرے کانوں میں آج بھی اسی طرح گونج رہا ہے (سابق ) پنجاب کے ایک معزز ترین خاندان کے ایک نوجوان کی زبان سے سنا ہوا یہ واقعہ کہ پہلگام میں چند روزہ قیام کے بعد جب مسافر لوٹنے لگا اور اُسے سامان وغیرہ اُٹھوانے کے لئے مزدوروں کی ضرورت پیش آئی تو ریاست کے رائج الوقت قانون کے مطابق ( کہ مزدور مہیا کر نا سرکاری کارندوں کا کام تھا ) انہیں اطلاع دی گئی کچھ مزدور بھجوا دیئے گئے جنہیں سامان دے دیا گیا۔انہیں مزدوروں میں سے ایک شخص نے ایک ٹرنک اُٹھایا۔تھوڑی دور جانے کے بعد اس نے ٹرنک ایک اونچی جگہ پر رکھا اور ٹھہر گیا۔اور لمبی آہ بھر کر بولا ”ہائے موجے ( یعنی ہائے ماں ) اُس کی اس آواز میں اس قدر درد بھرا ہوا تھا کہ سننے والے کا دل لرز گیا۔وہ اس مزدور کی طرف متوجہ ہوا۔اور اس حسرت آفرین آہ کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا۔وو جناب میں مزدور نہیں ہوں میری آج شادی ہے۔صبح میری برات جارہی تھی 19