کشمیر کی کہانی — Page 143
صاحب کنارہ پر پہنچے۔شام ہو چلی تھی۔کپڑے پانی سے شرابور - فکر ہوئی رات کہاں گزاریں کو کی بستی دور تک دکھائی نہ دیتی تھی۔ایک پہاڑی کی چوٹی پر جھونپڑی نظر آئی۔کوشش کر کے وہاں پہنچے۔ایک غریب کی کٹیا تھی۔ایک کوٹھا جس کے نصف حصہ میں گھر کے لوگوں کی رہائش تھی مالک مکان کو جب علم ہوا کہ یہ کشمیر کمیٹی کے وکیل ہیں تو خوشی سے پھولا نہ سمایا کھانے کے لیے جو گھر میں تھا سامنے لا رکھا اس کے ہاں صرف ایک ٹوٹی پھوٹی چار پائی تھی۔قاضی صاحب کے لیے خالی کر دی جس پر انہوں نے اپنا بستر لگایا۔مچھر اور جوئیں ساری رات تواضح کرتی رہیں۔اس لیے نیند کو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔صبح کی روشنی میں معلوم ہوا کہ تمام کپڑوں میں جوئیں ہی جوئیں ہیں۔ایک عرصہ کے بعد کئی دن کی لگاتار کوشش سے اس مصیبت سے چھٹکارا ملا۔ایک اور وکیل کا قصہ سن لیجئے ایک رات شدید بارش ہوئی۔جس کمرہ میں ان کی رہائش تھی پہلے اُس کی ایک دیوار گری پھر دوسری یہاں تک کہ جب صبح بارش تھی۔تو کمرہ کی چھت درمیانی ستونوں پر کھڑی تھی۔خدا کا فضل ہوا۔چھت اپنی قائم رہی اور مظلومین کشمیر کے معاون محفوظ و مامون رہے۔147