کشمیر کی کہانی — Page 142
اخلاص کے شاندار نمونے ان مخلصین کے اخلاص کے چند واقعات ملاحظہ ہوں۔۔میر محمد بخش جموں میں کام کر رہے تھے۔ان کا لڑکا ٹائیفائیڈ سے سخت بیمار ہو گیا۔بخار اتر نہیں رہا تھا گھر سے تار آیا فوراً گوجرانوالہ پہنچے۔ادھر مقدمہ نازک مرحلہ پر تھا کئی لوگوں کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔دوسری طرف بچے کی زندگی خطرے میں تھی۔گھر والوں کو یہ جواب دیا: وو میرا جموں سے فارغ ہو کر آنا مشکل ہے اور نہ میں ڈاکٹر ہی ہوں کہ اس کی مدد کر سکوں۔ہاں دعا کرسکتا ہوں وہ جموں میں بیٹھا ہوا بھی کرتا رہوں گا۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس کے جذبہ کو دیکھ کر اپنا فضل فرمایا۔اور بچہ صحت یاب ہو گیا۔شیخ بشیر احمد کشمیر سے اتفاقاً تھوڑے عرصہ کے لیے گوجرانوالہ گئے ہوئے تھے۔جب ان کو بچے کی بیماری کا علم ہوا تو آپ نے فوراً خاطر خواہ طبی انتظام کروا دیا اور تھوڑے دنوں کے بعد بچے کا بخار اتر گیا۔قاضی عبد الحمید راجوری میں کام کر رہے تھے۔اُن کو حکم ہوا۔فوراً پو نچھ پہنچ جائیں۔برسات کا موسم تھا۔کوئی سڑک نہ تھی۔قاضی صاحب یہ حکم ملتے ہی چل پڑے۔تھنہ کے راستے خطرناک پگڈنڈیوں پر سے گزر کر جانا تھا۔کئی ندی نالے درمیان میں آتے تھے۔دوٹو کرایہ پر لیے۔ایک پر سامان لادا اور دوسرے پر خود سوار ہوئے۔ایک ندی پار کر رہے تھے۔سخت بارش شروع ہو گئی۔پہاڑوں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ بارش کے وقت پہاڑی نالوں اور دریاؤں کی کیا حالت ہوتی ہے۔ٹوکو ( جس پر قاضی صاحب سوار تھے ) مذاق سُوجھا۔قاضی صاحب کو پانی میں پھینکا۔اور اُن کے بوجھ سے بے نیاز ہو گیا۔جوں توں کر کے قاضی 146