کشمیر کی کہانی — Page 144
گلینسی کمیشن کی سفارشات پر مہاراجہ کے احکام کا ذکر میں نے تفصیل کے ساتھ اس لیے کیا ہے۔تا کہ وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ آئینی طریق پر مقابلہ کرنے سے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔انہیں معلوم ہو سکے کہ صحیح طریق یہی تھا کہ اس جدو جہد کو آئینی لائنوں پر چلا جائے اور یہ اسی کے خوشگوار نتائج ہیں۔۔گلینسی کمیشن باشندگانِ ریاست کی شکایات کی تحقیق اور ازالہ کی تجاویز پیش کرنے کے لیے مسٹر بی۔بے گلینسی کی صدارت میں جو کمیشن مہاراجہ نے ۱۳ نومبر۳۱، کومقرر کیا تھا۔اس نے نومبر کے آخری حصہ میں سری نگر میں با قاعدہ کام شروع کر دیا تھا۔متعصب ہندوؤں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی اس وقت جو حق تلفی ہورہی ہے۔اس کا ازالہ ہونے پر بہر حال اُن کو بہت کچھ چھوڑنا پڑے گا۔اور اگر مسلمانوں کو اُن کی آبادی کے لحاظ سے حقوق مل گئے تو یہ بات ہندوؤں کے مفاد کے خلاف ہوگی۔اس لیے انہوں نے کوشش کی کہ ہند وارا کین کمیشن سے دستبردار ہو جائیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ کمیشن ناکام ہو جاتا۔اور مسلمانوں کو کچھ نہ ملتا یہ چال پورے طور پر کامیاب نہ ہوئی۔جموں کے ہندوؤں کے نمائندہ مسٹرلوک ناتھ شہر مانے تو دسمبر کے شروع ہی میں کمیشن سے علیحدگی اختیار کر لی۔لیکن مسٹر پریم ناتھ بزاز کا خیال تھا کہ اگر ریاستی باشندوں کو حقوق ملے مثلاً پر لیس اور پلیٹ فارم کی آزادی وغیرہ وغیرہ۔148