کشمیر کی کہانی — Page 137
فریقین کو رہا کر دیا گیا اور اس طرح نہ صرف باقی مسلمانوں کو بھی رستگاری نصیب ہوئی اس بہت بڑے مقدمے کا انجام بھی بخیر ہوا۔اور ریاست بھر میں کشمیر کمیٹی کے لیے تشکر و امتنان کی لہر دوڑ گئی۔ملاقات میں بدمزگی مولا نا عبد الرحیم درد نے مسن گلینسی سے ملکر یہ انتظام کروایا تھا کہ مہاراجہ مسلمانوں کے ایک وفد کو ملاقات کا موقع دے۔اس کا مختصر ذکر پہلے آچکا ہے اس تحریک آزادی میں پہلے دومرتبہ مسلمانوں کے وفود کو مہاراجہ سے ملنے کا موقع ملا تھا اور انہوں نے اپنے مطالبات تحریراً پیش کر دیے تھے۔کسی خاص گفتگو کا موقع نہیں ملا تھا۔لیڈر بھی تجربہ کار اور پختہ نہ تھے۔اس لیے محترم درد صاحب نے احتیاطاً میر محمد بخش وکیل اور چودھری عزیز احمد باجوہ وکیل کو بھی وفد میں شامل کرا دیا۔تا کہ اگر وفد کے ممبر کوئی غلطی کریں تو ازالہ ہو سکے۔اتفاق کی بات ہے وہی ہوا۔جس کا خطرہ تھا۔جموں کے ایک نمائندہ نے ایک ایسی بات کہہ دی۔جو ہر شریف آدمی کے نزدیک سخت قابل اعتراض سمجھی جائے گی۔اسے سنتے ہی مہاراجہ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا۔وزیر اعظم کی حالت بھی غیر ہو گئی۔کشمیر کمیٹی کے وکلاء نے نہایت عقلمندی سے بات کو ٹالا۔اس وقت مصیبت تو ٹل گئی۔لیکن نادانی کے ایک فقرہ نے ملاقات کی غرض کو پورا نہ ہونے دیا۔وفد کے دوسرے ممبروں کا خیال تھا کہ اگر کشمیر کمیٹی کے وکلاء ساتھ نہ ہوتے تو آج ہم لوگ صحیح سلامت مہاراجہ کے محل سے باہر نہ آتے۔چودھری اسد اللہ خاں میر پور میں میر پور میں تحریک عدم ادائیگی مالیہ اور زمینداروں میں بے چینی کے خوف ناک نتائج پیدا ہوئے تھے۔کشمیر کمیٹی متواتر اس کوشش میں رہی کہ شکایات کا ازالہ ہو۔انہی کوششوں 141